Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 27 june, 2009, 11:11 GMT 16:11 PST

جنوبی وزیرستان: فضائی حملوں میں اضافہ

جنوبی اور شمالی وزیرستان کوئی ساڑھے گیارہ ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے

جنوبی وزیرستان میں دو روز سے فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور زمینی فوج نے بھی جنڈولہ سے وانا روڈ پر پیش قدمی شروع کر دی ہے۔

جس طرح سوات میں جاری آپریشن راہ راست کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر فوج کا تعلقات عامہ کا محکمہ اطلاعات فراہم کرتا ہے اس طرح وزیرستان میں آپریشن راہ نجات تو شروع کیا گیا ہے لیکن اس بارے میں یہ نہیں بتایا جا رہا کہ وہاں کیا کارروائی کی جا رہی ہے۔

آج سنیچر کے روز آئی ایس پی آر نے وزیرستان کے بارے میں صرف اتنا بتایا ہے کہ لدطا اور مکین میں شدت پسندوں کے مراکز، ٹریننگ کیمپ اور اسلحے کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ظاہری طور پر یہ فوج کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے لیکن جنوبی وزیرستان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی ہو رہی ہے لیکن زمین پر اس وقت فوج کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے اور ابتدائی طور پر صرف فضائی حملے ہی کیے جا رہے ہیں جس سے شدت پسندوں سے اہم راستے صاف کرنا اور ان کے قریب واقع دیہاتوں میں موجود طالبان کو بھگانا ہے تاکہ زمینی فوج کے لیے راستہ صاف کیا جا سکے۔

دو روز میں جنڈولہ اور مکین کے علاقوں میں پاکستان کی فوج نے جیٹ طیاروں سے شدت پسندوں کے مورچوں اور طالبان کی دفاتر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ان مورچوں اور دفاتر میں اہم طالبان کمانڈر موجود ہوتے ہیں لیکن اب تک کسی اہم طالبان رہنما کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

گزشتہ روز سراروغہ میں بیت اللہ محسود کے دست راست حکیم اللہ محسود کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق وہ خود اس حملے کے وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ چار روز پہلے مکین میں امریکی ڈرونز حملوں کے وقت تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود بچ گئے تھے۔

شمالی وزیرستان کی جانی خیل کے علاقے میں آپریشن کے بعد سیکیورٹی فورسز کی پیش قدمی رزمک کی جانب سے جاری ہے۔

دو روز میں فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بیس اور پینتیس کے درمیان ہے لیکن چونکہ ان علاقوں میں انتظامی اہلکار موجود نہیں ہیں اس لیے اطلاعات کا حصول کافی مشکل ہے۔

جنوبی اور شمالی وزیرستان کوئی ساڑھے گیارہ ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جس کے مشرق میں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقے جیسے ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں واقع ہیں جبکہ مغرب کی جانب افغاستان جنوب میں بلوچستان کا علاقہ ژوب ہے۔

ٹانک سے آمدہ طلاعات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک کے راستے وانہ جائیں تو راستے میں جنڈولہ واقع ہے اور اس وقت پاکستانی فوج نے جنڈولہ سے وانہ کی جانب پیش قدمی شروع کی ہے لیکن وانا سے پہلے کوئی دس سے بارہ کلومیٹر کا علاقہ اس وقت طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ جنڈولہ سے کوٹکئی اور وانہ سے سپلاتوئی تک کا گھیراؤ کیا گیا ہے اور ادھر شمالی وزیرستان کی جانی خیل کے علاقے میں آپریشن کے بعد سیکیورٹی فورسز کی پیش قدمی رزمک کی جانب سے جاری ہے۔

باجوڑ اور سوات کے بعد اب فوری طور پر وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کرنے پر بیشتر مبصرین نے اس کی حمایت نہیں کی ہے لیکن کہا ہے کہ طالبان کو عام عوام سے تنہا کرنے کی پالیسی میں حکومت کو کسی قدر کامیابی حاصل ہوئی ہے اور طالبان بھی نفسیاتی طور پر سوات آپریشن کے بعد کمزور ہوئے ہیں جس وجہ سے وزیرستان کا محاذ بھی کھولا گیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔