Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 24 june, 2009, 17:24 GMT 22:24 PST

کراچی: بی آر پی کے دو رہنما قتل

بلوچ رہنما فائل فوٹو

ان تین رہنماؤں کی تصویریں جن کے قتل کی تحقیقات تین ماہ قبل شروع ہوئی ہیں

کراچی میں بلوچستان ریپبلکن پارٹی کے دو رہنماوں کی لاشیں ملی ہیں، بی آر پی کا کہنا ہے کہ انہیں اغوا کرنے کے بعد مارا گیا ہے۔ جب کہ پولیس نے واقعے کو دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

گڈاپ ٹاؤن کی گلش معمار پولیس کا کہنا ہے کہ میھار ولد پھگن اور محمد مرید ولد جاڑو خان کو منگل کی صبح ساون گوٹھ کے قریب موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے گولیاں مارکر ہلاک کردیا ۔

پولیس کے مطابق دونوں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے اور واپسی پر ان پر حملہ کیا گیا، دونوں گڈاپ کے فارم ہاوسوں پر چوکیداری کرتے تھے۔ پولیس نے واقعہ کا سبب پرانی دشمنی کو قرار دیا ہے تاہم یہ دشمنی کیا تھی یہ نہیں بتایا گیا۔

دوسری جانب بلوچستان ریپبلکن پارٹی کے رہنما شیر محمد بگٹی نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو بتایا کہ میھار بگٹی ڈیرا بگٹی شہر میں تنظیم کے آرگنائزر تھے اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد وہ دو سال قید بھی رہ چکے تھے۔

شیر محمد کے مطابق میھار پر میر عالی بگٹی کے لوگوں نے دستار بندی کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا مگر انہوں نے ان کی حمایت سے انکار کیا تھا۔ جس پر انہیں دھمکیاں دی گئیں تو وہ کراچی آگئے تھے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ میھار اور ان کے ساتھی کو سرکاری فورسز نے اغوا کر کے مخالفین کے حوالے کیا جنہوں نے انہیں قتل کردیا، شیر محمد کا کہنا تھا کہ میھار اور ان کے ساتھی کا قتل مرید بگٹی کے قتل کا تسلسل ہے جنہیں سکرنڈ میں قتل کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ مرید بگٹی کے قتل کی ذمے داری کلپر بگٹی قبیلے نے قبول کی ہے، کوئٹہ کے صحافیوں کو ٹیلیفون پر قبیلے کے ترجمان نے بتایا ہے کہ بلوچ قبائل کی روایت کے تحت مرید بگٹی کو بے قصور لوگوں کو قتل کرنے کے جرم میں قتل کیا گیا ہے۔

شیر محمد بگٹی نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو بتایا کہ میھار بگٹی ڈیرا بگٹی شہر میں تنظیم کے آرگنائزر تھے اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد وہ دو سال قید بھی رہ چکے تھے

بلوچستان ریپبلکن پارٹی

ترجمان کا کہنا تھا کہ مرید بگٹی نے چھ بار ان کے خاندان پر حملہ کیا ان کے راستے میں باردوی سرنگیں بچھائیں اور اسی وجہ سے ان کے بھائی شاہ گل اور گل بیگ مارے گئے جس کا بدلہ لیا گیا ہے۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے بلکہ قبائلی بدلہ ہے۔

دوسری جانب دو روز قبل ملیر کے علاقے میں پولیس نے ایک شخص قربان مری کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، ایس پی پولیس اسلم خان کا کہنا تھا کہ قربان مری ڈاکو تھا مقابلے کے دوران ان کے چار ساتھی گرفتار ہوگئے تھے جب کہ پولیس نے ان کے قبضے سے کلاشنکوف رائفل اور دستی بم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا مگر اگلے روز پولیس کا کہنا تھا کہ قربان مری بلوچستان لبریشن آرمی کا کارکن تھا جو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے قتل اور حملے میں ملوث تھا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔