Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 23 june, 2009, 13:48 GMT 18:48 PST

’وزیرستان میں تین ہزار پنجابی طالبان ہیں‘

اب فوج ہی پاکستان میں ریاست ہے:افراسیاب خٹک

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں اس وقت تین ہزار سے پانچ ہزار کے درمیان ایسے طالبان موجود ہیں جن کا تعلق پنجاب سے ہے اور اس معاملے کو پنجاب حکومت کے ساتھ بھی اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بات منگل کو اسلام آباد میں ’طالبانائزیشن کا توڑ۔ مستقبل کا لائحہ عمل‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتائی۔

سینیٹر افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقہ جات میں موجود پنجابی طالبان میں سے اکثریت صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع سے تعلق رکھتی ہے اور اس سلسلے میں سرحد حکومت نے سرکاری طور پر پنجاب حکومت سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ماضی میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں فوج ریاست کے اندر ایک ریاست ہے تاہم اب یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اب فوج ہی پاکستان میں ریاست ہے‘۔

’پاکستان جو ایک ویلفیئر سٹیٹ تھا، اب ایک گیریژن سٹیٹ میں تبدیل ہو چکا ہے‘

افراسیاب خٹک نے کہا کہ طالبانائزیشن اسی سکے کا دوسرا رخ ہے اور جسے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے طالبان کو پاکستانی فوج کی’سٹریٹیجک ڈیپتھ‘ پالیسی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کو ایک سٹریٹجک جگہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ طالبانائزیشن کے مسئلے کا کوئی فوری حل نہیں اور نہ ہی حکومت کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے جسے گھمانے سے یہ مسئلہ غائب ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے کئی رخ ہیں اور ’ہمیں اس بات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ دنیا کی کئی طاقتیں ایسی ہیں جن کے مستقبل کے مفاد اس خطے سے وابستہ ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اسے صرف پاکستان کا داخلی مسئلہ سمجھنے کی بجائے اس سے جڑے خارجی عوامل کو بھی مدِ نظر رکھا جائے‘۔

رضا ربانی نے کہا کہ ’پاکستان جو ایک ویلفیئر سٹیٹ تھا، اب ایک گیریژن سٹیٹ میں تبدیل ہو چکا ہے اور ہمارا معاشرہ اب انارکی کی جانب گامزن ہے‘۔

ماضی میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں فوج ریاست کے اندر ایک ریاست ہے تاہم اب یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اب فوج ہی پاکستان میں ریاست ہے۔

افراسیاب خٹک

رضا ربانی اور ڈاکٹر پرویز ہود بھائی سمیت متعدد مقررین نے طالبان کی کارروائیوں کو ایک نظریاتی جنگ قرار دیا اور کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے ایک ایسا متبادل نظریہ پیش کرنا ضروری ہے جس سے عوام کے دل جیتے جا سکیں۔

ڈاکٹر ہود بھائی نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ خیال غلط ہے کہ صرف غربت، انصاف کی عدم فراہمی یا تعلیم کی کمی جیسے عوامل ہی پاکستان میں دہشتگردی میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان عوامل سے فائدہ اٹھا کر متاثرہ لوگوں کے ذہنوں کو دہشتگردی کی جانب ایک حد تک مائل تو کیا جا سکتا ہے لیکن دراصل پاکستان میں دہشتگردی کی جنگ مذہبی نظریے کی جنگ بن چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے پاکستانی ریاست کو عوام پر اپنا اعتماد بحال کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان صرف اسی صورت میں مضبوط ہوسکتا ہے جب اس کے عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔