Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 22 june, 2009, 10:17 GMT 15:17 PST

وزیرستان: ’بمباری میں دس جنگجو ہلاک‘

سپنکئی راغزئی میں موجود مقامی طالبان کے مراکز کو رات بھر توپخانے سے نشانہ بنایا گیا

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو جیٹ طیاروں سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں دس شدت پسند مارے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق محسود قبائل کے علاقے میں واقع شدت پسندوں کے مراکز پر رات بھر گولہ باری بھی کی ہے جس کے نتیجہ میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیر کو سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے دور دارز پہاڑی سلسلوں میں واقع شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں کو نشانہ بنایا ہے اس میں سپین قم، ایمرراغزئی اور سلے روغعہ کے علاقے شامل ہیں۔ حکام کے مطابق سپین قمر سے چار، سلے روغعہ سے تین اور ایمر راغزئی سے بھی تین شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

ادھر جنڈولہ سے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جنڈولہ کے قریب محسود قبائل کے علاقے سپنکئی راغزئی میں موجود مقامی طالبان کے مراکز کو رات بھر توپخانے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی مراکز کے تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپینکئی راغزئی کے علاقے میں اس وقت صرف مقامی طالبان اور ان کے ٹھکانے موجود ہیں اور عام لوگوں نے اس علاقے کو پہلے سے خالی کردیا تھا۔اہلکار کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے جوان سپنکئی راغزئی کے حدود میں داخل ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہے۔

وانا میں مقامی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ رات نامعلوم افراد نے وانا سکاؤٹس قلعہ پرتین راکٹ فائر کیے جو سکاؤٹس قلعہ کے قرب و جوار میں ایک زوردار دھماکے کیساتھ پھٹ گئے۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی ہے جس میں توپخانے کے علاوہ ماٹر کو بھی استعمال کیاگیا ہے۔ حکام کے مطابق ایک ماٹر کا ایک گولہ سکاؤٹس کیمپ کے قریب سراج الدین نامی ایک قبائل کے مکان پر گرا ہے جس نتیجہ میں چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سراج الدین ان کی بیوی اور دو بچے شامل ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔