
وزیراعظم نے کہا کہ وہ وزارت خزانہ کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ پیٹرولیم پر بھی یہ ٹیکس ختم کرنے پر نظر ثانی کی جائے
پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے ایوان میں یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے بجٹ میں کمپریسڈ نیچرل گیس یا سی این جی پر عائد چھ فیصد کاربن ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ایوان میں کئی اراکین کی تقاریر سنی ہیں اور کاربن ٹیکس کی مخالفت کی وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے اور وہ وزارت خزانہ کو ہدایت کرتے ہیں کہ سی این جی پر عائد کاربن ٹیکس ختم کی جائے اور پیٹرولیم پر بھی یہ ٹیکس لگانے پر نظرِ ثانی کی جائے۔
ایوان میں بجٹ پر بحث کے دوران ویسے تو حزب مخالف کے اکثر اراکین نے اپنی تقاریر میں کاربن ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن جمعرات کو حکومت کی ایک بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے دھمکی دی کہ اگر یہ ٹیکس ختم نہیں کیا جائے گا تو وہ بجٹ کی منظوری میں حصہ نہیں لیں گے۔
جس کے بعد وزیراعظم نےسی این جی پر عائد چھ فیصد ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے جب بجٹ پر بحث کا آغاز کیا تھا تو اپنی تقریر میں کاربن ٹیکس کو ’جگا ٹیکس‘ قرار دیا تھا۔
پاکستان میں سی این جی کے ڈیلرز کی تنظیم نے بھی چند روز قبل دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے یہ ٹیکس واپس نہیں لیا تو وہ ہڑتال کریں گے۔ ڈیلرز نے کہا تھا کہ اگر نئے بجٹ میں عائد کردہ ٹیکس برقرار رہتا تو تقریبا چھ روپے فی کلو گرام گیس کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا اور مہنگائی کے مارے عوام کی زندگی اجیرن بن جاتی۔
دریں اثناء جمعرات کو ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں بھی بجٹ پر بحث جاری رہی اور ایک موقع پر اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کاربن ٹیکس کے بارے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کاربن تو کالا ہوتا ہے اور حکومت سیاہ ٹیکس کیسے لگا رہی ہے؟۔
ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ حکومت کوئی ٹیکس بجٹ میں نافذ کرے اور بجٹ کی منظوری سے پہلے ہی اُسے واپس لینے کا اعلان کردے۔
© MMIX