Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 17 june, 2009, 09:02 GMT 14:02 PST

سندھ: مالاکنڈ متاثرین کی آمد پر دھرنا

ایس ٹی پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گھوٹکی میں دھرنا شام دیر تک جاری رہے گا

پاکستان کے شورش زدہ علاقے مالاکنڈ میں فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی سندھ آمد کے خلاف سندھی قوم پرست جماعتوں کا احتجاج جاری ہے۔

تین ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کے بعد بدھ کے روز پنجاب سندھ سرحد کے قریب دھرنا دیا گیا ہے اور اس دھرنے کی اپیل سندھ ترقی پسند پارٹی یعنی ایس ٹی پی نے دے رکھی ہے۔

یہ دھرنا سندھ کے ضلع گھوٹکی میں اس جگہ پر دیا جا رہا ہے جہاں پنجاب کی سرحدیں سندھ سے ملتی ہیں۔ دھرنے کی قیادت سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنماء ڈاکٹر قادر مگسی کر رہے ہیں۔ اس جماعت نے چند روز قبل کراچی میں وزیر اعلٰی ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا تھا۔ کراچی میں مظاہروں کے دوران ایس ٹی پی کے تین کارکنان پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

ایس ٹی پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گھوٹکی میں دھرنا شام دیر تک جاری رہے گا اور ہزاروں لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب سندھ پولیس نے دھرنے کی وجہ سے سینکڑوں پولیس اہلکار گھوٹکی میں تعینات کر رکھے ہیں۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ دیگر اضلاع سے پولیس نفری طلب کی گئی ہے تاکہ امن امان برقرار رکھا جائے۔

پاکستان کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے چئرمین کے آبائی صوبے سندھ میں مالاکنڈ متاثرین کی آمد آج کل ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ سندھی قوم پرست جماعتوں نے تاحال تین شٹر ڈاؤن ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جبکہ سندھ حکومت نے قوم پرستوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی بات کی ہے۔

مالاکنڈ متاثرین کی سندھ آمد کے خلاف حالیہ دنوں الگ الگ مظاہروں کے دوران پولیس کی گولیاں لگنے سے کراچی اور جامشورو میں دو قوم پرست جماعتوں کے چار کارکنان ہلاک ہوچکے ہیں۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ متاثرین کی سندھ آمد کی مخالفت کرنے والے ملک دشمن ہیں اور بقول صوبائی وزیر داخِلہ ان کو گلے میں پھندہ ڈال کر گھسیٹا جائے گا۔ سندھ کے وزیر اعلٰی کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ متاثرین کی مخالفت وہ لوگ کر رہے ہیں جنہیں ایک ووٹ نہیں ملتا اور وہ اس ایشو پر اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں۔

سندھ کی ایک اور جماعت جئے سندھ متحدہ محاذ یعنی جسمم نے ایس ٹی پی کےدھرنے کے بعد تین روزہ پہیہ جام ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ پہلی جولائی سے شروع ہونے والی ہڑتال کے بارے میں جسمم کے سربراہ شفیع برفت نے کہا ہے کہ ایک روزہ ہڑتال اور دھرنے ناکافی ہیں حکمران تین روزہ ہڑتال پر توجہ دیں گے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تین روزہ پہیہ جام ہڑتال پرتشدد ہوسکتی ہے کیونکہ جسمم سندھ کے حقوق کے لیے مسلح جدوجہد کی حامی تنظیم ہے۔

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ اور جی ایم سید کے پوتے سید جلال محمود شاھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کا اگلا لائحہ عمل متحد ہوکر غیر سندھیوں کی آبادکاری کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔

مالاکنڈ متاثرین کو سندھی قوم پرست اپنی زبان میں سندھ میں غیر سندھیوں کی آبادکاری کا نام دے رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ لاکھوں غیر سندھیوں کی آبادکاری کی وجہ سے سندھی اپنی دھرتی پر اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔

سندھی قوم پرستوں نے الگ الگ ہڑتال، دھرنے اور احتجاج کرنے کے بعد متحد ہو کر احتجاج کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ اور جی ایم سید کے پوتے سید جلال محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کا اگلا لائحہ عمل متحد ہوکر غیر سندھیوں کی آبادکاری کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔

سندھ میں مالاکنڈ متاثرین کی آمد کی سب سے پہلے مخالفت متحدہ قومی موومنٹ نے یہ کہ کر کی تھی کہ کراچی میں طالبان کی آمد ہورہی ہے۔ متحدہ نے جئے سندھ قومی محاذ کی ہڑتال کی اپیل کی حمایت کی تھی مگر بعد میں دوسری ہڑتال سے انہوں نے گورنر ہاؤس میں ایک اعلٰی سطحی اجلاس کے بعد لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ مالاکنڈ متاثرین کراچی میں آباد ہوسکتے ہیں مگر ان کی رجسٹریشن کی جائے۔

سندھ میں مبصرین کا کہنا ہے کہ قوم پرست جماعتیں ایک عرصے سے ووٹ کی سیاست کو برا سمجھ کر انتخابی عمل سے دور رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ اسمبلیوں میں نہیں ہیں مگر سندھ میں احتجاج کی حد تک ان کا اثر ہمیشہ سے رہا ہے۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی ماضی میں کالاباغ ڈیم اور تھل کینال کی تعمیر کے خلاف احتجاج میں قومپرستوں کی اتحادی رہ چکی ہے۔ نواز شریف کے آخری دور اقتدار میں بینظیر بھٹو نے سندھ پنجاب سرحد پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف قوم پرستوں کے ایک دھرنے میں شرکت کی تھی۔

پیپلزپارٹی نے تاحال قومپرستوں سے مالاکنڈ متاثرین کے ایشو پر مذاکرات کرنے کی بات نہیں کی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔