
شادی میں کنستر کو ڈھولک کے طور پر استعمال کرتے ہوئے علاقائی گیت گائے گئے
مالاکنڈ ڈویژن میں جاری فوجی کارروائی کے باعث لاکھوں لوگ اپنے عزیز رشتے داروں کو کھو بیٹھے ہیں اور اب اپنے گھر سے دور مختلف پناہ گزین کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔ لیکن ان کیمپوں کی مشکل زندگی بھی انہیں نئے رشتے بنانے سے نہیں روک سکی۔
حال ہی میں صوبہ سرحد کے ضلع مردان کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ جلالہ میں اجتماعی شادیوں کی تقریب منعقد ہوئی جس میں دس نوجوان لڑکے اور لڑکیاں رشتہ اذدواج میں منسلک ہوئے۔جلالہ کیمپ میں ان اجتماعی شادیوں کے تمام انتظامات کیمپ انچارج علی عنان قمر نے کیے تھے۔
ایک سوال کہ آخر اتنی مصیبت میں مبتلا یہ لوگ کیمپوں میں رہ کر شادیاں کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے علی عنان نے بتایا کہ ان تمام لڑکے لڑکیوں کی شادیاں پہلے سے طے تھیں مگر بےسروسامانی کی حالت میں نقل مکانی کرنے والے ان لوگوں کے پاس اتنے روپے نہیں ہیں کہ وہ یہ شادیاں کرسکیں۔
ان تمام لڑکے لڑکیوں کی شادیاں پہلے سے طے تھیں مگر بےسروسامانی کی حالت میں نقل مکانی کرنے والے ان لوگوں کے پاس اتنے روپے نہیں ہیں کہ وہ یہ شادیاں کرسکیں
علی عنان
انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ دس جوڑوں کی اجتماعی شادی کیمپ انتظامیہ کروائےگی۔
جلالہ کیمپ میں نقل مکانی کرکے آنے والے لوگوں کی رجسٹریشن جگہ کم ہونے کے باعث گزشتہ ماہ نو مئ سے بند ہے لیکن کیمپ انچارچ علی عنان قمر نے بتایا کہ شادی شدہ جوڑوں ایک الگ خاندان کے طور پر رجسٹر کرکے انہیں الگ خیمے مہیا کیے جائیں گے۔
اجتماعی شادی کی تقریب میں دولہا دلہن کو خیمے، تین تین ہزار روپے ، سلائی مشین اور گھریلو استعمال کا دیگر سامان بھی دیا گیا اور باراتیوں کی تواضع چکن قورمہ اور پلاؤ کے ساتھ کی گئی۔
جلالہ کیمپ میں اجتماعی شادی کرنے والے ان دس لڑکے لڑکیوں کو ڈھونڈنا کچھ زیادہ آسان نہیں تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر لڑکا بلاک اے میں ہے تو لڑکی بلاک بی میں تھی۔
اجتماعی شادی کرنے والوں میں اٹھارہ سالہ محمد عالم بھی شامل تھے جو ضلع بونیر سے نقل مکانی کر کے آئے تھے اور ان کی شادی پندہ سالہ ولناز سے ہوئی ہے ۔اس سوال پر کہ حالات بہتر ہونے کے بعد واپس بونیرجا کر شادی کرتے تو بہتر نہ ہوتا۔
اس پر محمد عالم کے پڑوسی امیر سلطان نے فوراً اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ’ شادی کرنے کے لیے اپنا وطن تو بہت اچھا ہے یہاں تو سب مسافر ہی ہیں اور مسافرت میں کوئی خوشی اور مزا تو نہیں آتا۔ اپنے وطن میں شادی پر کھانا بناتے ہیں اور سب لوگوں کو بلاتے ہیں اور اس کا کوئی حساب نہیں رکھا جاتا کہ کتنے آدمی کھاتے ہیں اور یہ سب کچھ دو تین دن چلتا ہے۔‘

زیادہ تر دلہنیں شرمیلی تھیں
ایک اور دولہا محمد خالد کا تعلق بھی بونیر سے ہے۔ ان کے بھائی محمد ابرار کیمپ میں ہوئی تقریب کو ایک سہولت سمجھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’ بونیر میں زیادہ تر لوگ تمباکو کی فصل سے ہونے والی آمدن سے شادیاں کرتے ہیں مگر لڑائی کے باعث اب فصل بھی تباہ ہوچکی ہے۔ اب ان کے پاس اتنے روپے بھی نہیں ہیں کہ وہ اپنے بل بوتے پر شادی کرسکیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ یہاں پر شادی کررہے ہیں۔‘
بائیس سالہ دولہا رحمت علی کا تعلق سوات ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور ہیں ۔ رحمت علی کی شادی اس ماہ کی پندرہ تاریخ کو سوات میں ہونی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ’ سوات میں زرگر کو زیوارات بنانے کے لیے رقم دے دی تھی۔اور ساری تیاریاں ہوچکی تھیں کہ اچانک حکومت نے اعلان کیا کہ سب لوگ مینگورہ شہر خالی کردیں۔اب کیا پتہ چلتا ہے کہ وہ زرگر زندہ بھی ہے یا مر گیا ہے جس کی وجہ سے ہماری رقم بھی ضائع ہو گئی ہے۔‘
شادی ہو اور ڈھول نہ بجے یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔ دلہن بخت سوا کے خیمے میں ایک دیگچی اور کنستر پر تھاپ دے کر دولہے ذاکر اللہ کے باپ نے ڈھولک کی کمی پوری کی اور سب خواتین نے مل کر اپنے علاقائی گیت گائے۔
اجتماعی شادی کرنے والوں میں ایک دولہا ایسا بھی تھا جو بولنے اور سماعت کی قوت سے محروم تھے۔ لیکن ان کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی۔ حیات اللہ خود تو نہیں بول سکتے تھے مگر ان کے دوست امان اللہ نے بتایا کہ’حیات اللہ شادی سے بہت خوش ہے۔ انہوں نے محنت مزدوری کر کے صوفہ سیٹ اور ڈبل بیڈ خریدا ہے اور انہوں نے اپنے کمرے کو ایسا سجایا ہے کہ کوئی صحت مند آدمی بھی نہیں سجاسکتا۔‘
حیات اللہ کے بھائی آبی حیات نے اپنے بھائی کی شادی کی خوشی میں کنستر بجا کر پشتو گانا بھی گا رہے تھے۔
میرے دل میں ارمان ہے ایک بار پھر ایک بار پھر
تمہارے ساتھ سوات جاؤں گا سیر کرنے ، میرے دل میں ارمان ہے
مالاکنڈ کی پہاڑی پر چڑہیں گے اور تھوڑا بٹ خیلہ اتریں گے
طوطا کنڈ بابا کو کریں گے سلام، ایک بار پھر ایک بار پھر
© MMX