
ڈاکٹر نعیمی کی نمازِ جنازہ کے موقع پر دیگر اضلاع سے بھی پولیس نفری لاہور بلائی گئی ہے
لاہور میں جمعہ کو ایک خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے عالمِ دین ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی نمازِ جنازہ کے موقع پر شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ڈاکٹر نعیمی کی ہلاکت پر ملک بھر میں مذہبی جماعتیں یومِ سوگ منا رہی ہیں۔
ڈاکٹر نعیمی کی نماز جنازہ سنیچر کی شام پانچ بجے ناصر باغ لاہور میں ادا کی جائے گی۔حکومت پنجابِ نے اس موقع پر لاہور میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی ہلاکت پر جہاں صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم سمیت تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے افسوس کا اظہار کیا اور اسے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا وہاں تنظیم المدارس اہل سنت ،سنی اتحاد کونسل متحدہ قومی موومنٹ نے ملک بھر میں سوگ اور تاجروں نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے سیاسی اور مذہبی شخصیات اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے شرکت متوقع ہے اور اس موقع پر کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے ہیں۔
لاہور کے ایس ایس پی سکیورٹی چوہدری شفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پورے شہر کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور تمام گاڑیوں کی جانچ پڑتال سخت کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نماز جنازہ کے لیے سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے چھ ایس پی اور متعدد ڈی ایس پی حضرات کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ اردگرد کے اضلاع سے پولیس کی بھاری نفری کو لاہور بلا لیا گیا ہے۔

لاہور کے کاروباری مراکز سنیچر کو بند رہیں گے
چوہدری شفیق کے مطابق مال روڈ لاہور پر واقع ناصر باغ کے ارد گرد تمام علاقے میں مقررہ وقت سے چار گھنٹے پہلے تمام گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنازے میں شریک تمام افراد کی چیکنگ کے لیے ’واک تھرو‘ گیٹ لگائے گئے ہیں جبکہ ایمبولینسیں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی موقع پر موجود رہیں گی۔
چوہدری شفیق نے کہا کہ انسانی سطح پر جس قدر ممکن ہے اتنا سکیورٹی کو یقینی بنانے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے اور امید ہے کہ جنازے پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ کسی رہنما کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کے جنازوں پر بھی بم دھماکے کیے گئے ہوں۔
© MMIX