
شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر رات بھر گولہ باری کی گئی
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام نے سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں بارہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ ان جھڑپوں میں دو سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔
دریں اثناء لوئردیر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی ہے جس میں حکام نے شدت پسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ کرنے کا دعوٰی بھی کیا ہے۔
مہمند ایجنسی میں ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو تحصیل صافی کے علاقے شیخ بابا میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے جس میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ٹینک بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں بارہ شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے بھی دو اہلکار ہلاک ہوئے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے چوبیس ٹھکانوں کو تباہ کر دیا جس میں شدت پسندوں کے دو گھر، دو مدرسے اور بیس تربیتی مراکز شامل ہیں۔
بئیزئی کے علاقے اخوند زدگان میں یار خان نامی شخص کے مکان ایک گولہ گرا ہے جس کے نتیجہ میں دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے
مقامی صحافی
مہمند ایجنسی میں ایک مقامی صحافی مکمل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بئیزئی کے علاقے اخوند زدگان میں یار خان نامی شخص کے مکان ایک گولہ گرا ہے جس کے نتیجہ میں دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گولہ گرنے سے مکان کے دو کمرے مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ باجوڑ ایجنسی میں جمعہ کو تحصیل چارمنگ کے دو مختلف علاقوں نواگئی اور کمن گرہ میں واقع شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے حملے کیے گئے ہیں تاہم ان میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
لوئر دیر میں فوج کے میجر الیاس خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے میدان،اصفن اور گھوڑاگٹ کے علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جس میں شدت پسندوں کے کئی خفیہ ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جبکہ میدان کے مختلف علاقوں میں واقع شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر رات بھر گولہ باری بھی کی گئی ہے۔
ادھر ہنگو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس کی ایک گاڑی بارودی سرنگ کا نشانہ بنی ہے جس کے نتیجہ میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور ہسپتال منقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار محمد انور نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ گیارہ بجے کے قریب ایک پولیس گاڑی تھانہ ٹل کے حدود میں اس وقت ایک بارودی سرنگ سے اس وقت ٹکرا گئی جب وہ ماموں پمپ کے علاقے میں معمول کے گشت پر تھے۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ یادرہے کہ گزشتہ روز ضلع ہنگو میں جیٹ طیاروں نے زرگیری اور شاہو خیل کے علاقوں میں جمعیت علما اسلام (ف) کے ضلعی صدر کے گھر اور دو مدرسوں پر بمباری کی تھی جس میں کم سے کم بارہ افراد ہلاک ہوگئےتھے۔ ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین اور بچے شامل تھے۔
© MMIX