Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 11 june, 2009, 03:23 GMT 08:23 PST

امدادی کاموں کے لیے رقم نہیں ہے

پناہ گزین

سوات کے ایک پناہ گزین کیمپ میں ایک ستر سالہ خاتون طبی امداد کی منتظر

سوات کی وادی میں فوج اور طالبان کے درمیان لڑائی کی وجہ سے بھاگ کر پناہ گزین کیمپوں میں آنے والوں کی مدد کرنے والی اہم امدادی تنظیموں کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ ان کو فنڈز کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

نو امدادی تنظیموں نے کہا ہے کہ انہیں ضروری امدادی اشیاء حاصل کرنے کے لیے بیالیس ملین ڈالر درکار ہے۔

امدادی تنظیم آکسفیم نے کہا ہے کہ اگر جولائی کے وسط تک اسے مزید رقم نہ ملی تو وہ یہاں سے چلی جائے گی۔

تنظیم کی ڈائریکٹر جین کاکنگ نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران اس طرح کے امدادی فنڈز کے بحران کا سامنا نہیں کیا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ بھی کہہ چکی ہے کہ اسے مالاکنڈ کارروائی سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے اگر ضروری امدادی رقم فوری طور پر نہ مہیا کی گئی تو وہ آئندہ چند ہفتوں میں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

پناہ گزین

کچھ پناہ گزین اپنے گھروں کو واپس جانے کو بے چین

پاکستان میں اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیوں کے نگران مارٹن موگوونجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی ادارے کی گزشتہ دنوں چون کروڑ ڈالر سے زائد کی امداد کی اپیل پر اب تک انہیں محض بائیس فیصد رقم مہیا ہوئی ہے۔

متاثرین کی درست تعداد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی آ رہی ہے۔ ’متاثرین کی بڑی تعداد مسلسل نقل و حرکت کی حالت میں ہے لہٰذا اصل تعداد کا تعین مشکل ہے۔‘

اقوام متحدہ کے امدادی امور کے ادارے (اوچا) کے مطابق فنڈز کی عدم دستیابی کی صورت میں چھبیس لاکھ افراد کی دیکھ بھال مشکل ہو جائے گی۔ اس وقت عالمی ادارے کے پاس محض اٹھائیس کروڑ ڈالر کی رقم کی آدھی امداد دستیاب ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔