Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 10 june, 2009, 13:52 GMT 18:52 PST

صوابی کا وی آئی پی پناہ گزین کیمپ

کیمپ میں مریضوں کو صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے طبی عملہ بھی موجود ہے۔

عارضی پناہ گاہ چاہے کتنی بھی آرام دہ کیوں نہ ہو گھر کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ مجبوری میں گھر بار چھوڑنے والے کسی طور بھی مطمئن نہیں ہو سکتے۔ کچھ ایسا ہی منظر مالاکنڈ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے صوابی میں شاہ منصور کیمپ میں دیکھا گیا۔

لگ بھگ دو ڈھائی سو افراد کو کیمپ آفس کے سامنے کھڑے کیمپ مینیجر سے کسی بات پر بحث کرتے پایا۔ دس منٹ میں جب معاملہ حل ہوگیا تو کیمپ کے کوآرڈینیٹر لیفٹینٹ کرنل ریٹائرڈ محمد نثار خان نے بتایا کہ کیمپ میں نئے بلاکس میں آنے والے لوگوں میں الیکٹرک واٹر کولرز کی تقسیم پر پہلے سے قائم بلاکس کے پناہ گزین احتجاج کر رہے تھے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے بلاکس سے کوئی چیز نئی جگہ بھیج دی جائے۔ بقول کیمپ کو آرڈینیٹر معاملہ اس گارنٹی کے ساتھ نمٹا لیا گیا کہ ان کی سہولیات میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

صوابی میں قائم شاہ منصور نامی یہ کیمپ پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، انٹر نیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس اور صوبہ سرحد کی حکومت اور صوابی کی ضلعی حکومت کے تعاون سے چل رہا ہے۔

اس کیمپ میں تین ہزار سے زائد رجسٹرڈ خاندان آباد ہیں اور دو بڑے حصوں پر مشتمل اس کیمپ میں بیس ہزار سے زائد افراد ہیں۔

شاہ منصور کیمپ میں تمام پناہ گزینوں کے لیے بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیمپ انتظامیہ نے اپنے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ کیمپ میں مقیم متاثرین کے عمائدین کو بھی فرائض سونپ رکھے ہیں۔

اس کیمپ میں لوگوں کو امداد کے حصول کے لیے لائن میں نہیں لگنا پڑتا کیوں کہ یہی عمائدین ملنے والی امداد لوگوں کو ان کے خمیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس طرح کوئی بھی خاندان امداد سے محروم نہیں رہتا۔

کیمپ میں پانی کی فراہمی کے لئے حکومت کی جانب سے تین ٹیوب ویل لگا ئے گئے ہیں۔

کیمپ میں صحت و صفائی اور پانی کی مناسب فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کیمپوں میں مریضوں کو بنیادی صحت کی فراہمی کے لیے طبی عملہ بھی موجود ہے جس میں لیڈی ڈاکٹرز اور نرسز بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایمرجنسی کی صورت میں تین ایمبولینسز بھی ہیں جو مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے چوبیس گھنٹے موجود رہتی ہیں۔

کیمپ میں پانی کی فراہمی کے لیے حکومت کی جانب سے تین ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کے ٹینکر بھی موجود ہیں۔ مختلف مقامات پر نلکے لگا کر روزانہ تین لاکھ بیس ہزار لیٹر پانی کیمپ میں فراہم کیا جاتا ہے۔ کیمپ میں تین سو لیٹرینیں اور دو سو کے لگ بھگ غسل خانے بھی بنائے گئے ہیں۔

چونکہ سوات اور اس سے ملحقہ علاقوں سے آنے والے افراد کے لیے صوابی کا گرم درجہ حرارت برداشت کرنا کافی کٹھن ہے اس لیے کیمپ انتظامیہ نے گرمی کی شدت کو کم کرنے کی غرض سے یہاں خمیوں کے اوپر شامیانے لگائے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر خاندان کو پنکھے اور ٹھنڈے پانی کے لیے دو وقت برف کی فراہمی کے علاوہ پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کولرز دیئے گئے ہیں۔ تمام خمیوں میں بجلی بھی موجود ہے۔

دیگر سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کیمپ میں خواتین اور مردوں کے مل بیٹھنے کے لیے الگ الگ جگہیں بنائی گئی ہیں۔ چار کمیونٹی سنٹرز میں ایک این جی او کی خواتین کیمپ کی عورتوں کو پڑھنا لکھنا، اور سلائی کڑھائی سکھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کیمپ میں حکومت کی جانب سے بےہنر افراد کو مختلف ٹیکنیکل ٹریننگ بھی دی جاتی ہیں۔

سکول جانے والے بچوں کی پڑھائی جاری رکھنے کے لیے یہاں ایک سکول بھی قائم ہے۔ کیمپ میں بچوں کی زیادہ تعداد کے باعث دو مزید سکول بنائے جا رہے ہیں۔ کیمپ میں نادرا کا رجٹریشن پوائنٹ بھی ہے اور دو بینکوں کی شاخیں بھی کام کر رہی ہیں۔

شاہ منصور کیمپ میں سہولیات کی فراہمی اور بہتر انتظامی معاملات دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ گویا حکومت نے مالاکنڈ میں فوجی آپریشن کے باعث ہونے والی نقل مکانی کے پیشِ نظر کافی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ لیکن یہی نظام دوسری خیمہ بستیوں میں کیوں نہیں ہے۔ حالانکہ بیس ہزار سے زائد افراد پر مشمتل اس خمیہ بستی میں مزید افراد کی گنجائش نہیں ہے اور ایسے میں بےگھر افراد کی کیمپ آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

صدر آصف علی زرداری اور پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک سمیت حکومتی اور اقوامِ متحدہ کے اعلی اہلکاروں نے بھی اس کیمپ کا دورہ کیا۔ شاہ منصور کیمپ میں دی جانے والے سہولیات اور بہترین انتظامی امور دیکھ کر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کیمپ کو صرف ملکی اور غیر ملکی اعلی شخصیات کے دوروں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔