Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 10 june, 2009, 10:26 GMT 15:26 PST

کیمپوں میں متاثرین کی آمد جاری

متاثرین میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔

پاکستان میں عام تاثر ہے کہ مالاکنڈ کے متاثرین کا انخلاء بند ہوگیا ہے اور شاید یہی سبب ہے کہ بیشتر متاثرین کے بڑے کیمپوں میں اندارج کا سلسلہ بھی بند کیا گیا ہے، لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں اور روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں بے گھر افراد کی کیمپوں میں آمد جاری ہے۔

متاثرہ علاقوں میں کرفیو کی نرمی کے دوران یا کسی وقت موقع پاتے ہی لوگ سوات، شانگلہ، دیر اور بونیر کے بعض علاقوں سے نکل کر کیمپوں کا رخ کرتے ہیں۔

گزشتہ دو روز میں مردان کے شیخ یاسین اور شیخ شہزاد کیمپوں میں دو سو سترہ اہل خانوں کے گیارہ سو بتیس بے گھر افراد پہنچے ہیں۔ ان افراد کو مردان کی دونوں کیمپوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے نئی قائم کردہ کیمپوں لڑاما، یار حسین اور دیگر جگہوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ مصیبت کے مارے ان تازہ بے گھر افراد کے ہمراہ بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

سوات سے منگل کو شیخ یاسین کیمپ میں پہنچنے والی شازیہ خان نے بتایا کہ مینگورہ میں لڑائی جاری ہے اور ہر طرف فوج ہے۔'طالبان آج کل ہمیں نظر نہیں آئے۔ہر روز گھروں میں گولے گرتے ہیں اور کئی عام لوگ مارے جارے ہیں۔۔ ہمارے پڑوس میں بارہ بچے اور ایک خاتون ماری گئی۔ دھماکوں سے میرے بچے ڈر کے مارے رونے لگتے اور آخر کار ہم نے گھر بار چھوڑنے کا فیصلہ کیا‘۔

صوابی اور مردان کے کیمپوں میں جائزہ لینے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقریبا چار سال قبل زلزلے کے وقت جو جذبہ پاکستانی قوم، مخیر حضرات، این جی اوز، حکومت یا سیاسی و مذہبی جماعتوں اور دنیا بھر، خاص کرکے مسلمان ممالک کا نظر آیا ویسا جذبہ مالاکنڈ کے متاثرین کی مدد میں دیکھنے کو نہیں ملا۔

مردان کے ایک اور کیمپ شیخ شہزاد میں شانگلہ سے آنے والے پِیو دین خان نے بتایا کہ وہاں کرفیو نافذ ہے اور جیسے ہی نرمی ہوئی تو وہ اپنے اہل خانہ کو لے کر یہاں پہنچے ہیں۔ 'طالبان عام لوگوں کو انسانی ڈھال بناتے ہیں۔۔ وہ ہمارے گھروں میں گھس آتے ہیں اور وہاں سے جب فوج پر فائرنگ کرتے ہیں تو فوج جوابی فائرنگ ہمارے گھروں پر کرتی ہے اور بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں‘۔

پیو دین جو اردو بھی نہیں بول سکتے ان سے ایک مترجم کی معرفت جب پوچھا کہ وہ طالبان کو اپنے گھروں میں روکتے کیوں نہیں یا ان سے لڑتے کیوں نہیں تو انہوں نے کہا کہ 'طالبان کی مخالفت کرو تو وہ رات کو آتے ہیں اور ذبح کردیتے ہیں۔۔ ایسے حالات ہیں کہ لوگ طالبان کے خلاف کچھ بول سکتے ہیں اور نہ ہی فوج کے، دونوں سے نقصان عام آدمی کا ہوتا ہے‘۔

ہر روز متاثرینکی بڑیتعداد کیمپوں میں پہنچ رہی ہے

شیخ شہزاد کیمپ میں مالم جبہ سے آنے والے ایک پچپن سالہ گل بہادر نے بتایا کہ طالبان اور فوج کی لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کا ہوا ہے۔„ہم بڑی مصیبت میں گھر بار چھوڑ آئے ہیں لیکن یہاں کیمپ والے کہتے ہیں کہ جگہ نہیں۔ پتہ نہیں کہاں بھیج دیں گے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے رشتہ دار شیخ شہزاد کیمپ میں ہیں اور ادھر ٹھہراؤ لیکن یہ لوگ نہیں مانتا۔۔ ہمارے بچوں کا گرمی سے برا حال ہے‘۔

ایک تو پردے کا مسئلہ ہے دوسرا کیمپوں میں گرمی بہت ہے اور ہمارے بچے وہاں بیمار پڑ جاتے ہیں۔لیکن ہم نے پھر بھی کوشش کی تھی مگر کیمپ والوں نے بتایا کہ ان کے پاس مزید گنجائش نہیں ہے۔

نسیم خاتون

پاکستان کے صوبہ سرحد کے ایک اور ضلع صوابی میں واقع شاہ منصور کیمپ جہاں تیس ہزار سے زیادہ متاثرین دو بڑے کیمپوں میں آباد ہیں، وہاں پانچ روز قبل سوات سے آ نے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’جب ہم آرہے تھے تو ہم نے سڑک کے کنارے لاشیں دیکھیں شاید طالبان کی تھیں اور ان میں سے دو جگہ پر ہم نے دیکھا کہ کتے لاشیں کھا رہے تھے‘۔

صوابی میں ایک نوجوان محمد علی جو بھی سوات سے آئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ 'یہ بڑا گیم ہو رہا ہے سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہوگا۔۔ ہمارے گھر کے قریب طالبان تھے۔ ہم انہیں دیکھ رہے تھے لیکن اوپر گھومنے والے ہیلی کاپٹر کو طالبان نظر نہیں آئے اور ان پر کوئی فائرنگ نہیں کی اور ہیلی کاپٹر چلے گئے‘۔

پورے پورے خاندان متاثرہ علاقوں سے پیدل بھی چل کر آئے ہیں

صوابی کیمپ کے انچارج کرنل (ر) نثار خان نے بتایا کہ ان کا تعلق پاکستان ہلال احمر سوسائٹی سے ہے اور ان کے زیر انتظام کیمپوں میں تیس ہزار لوگوں کو مفت کھانا دیا جاتا ہے۔„ روزانہ صرف کھانے پر سولہ لاکھ روپے خرچہ آتا ہے۔ یہاں ہر خیمے میں بجلی ہے، پنکھا ہے نیز ضروریات زندگی کی تمام اشیاء میسر ہیں‘۔

صوابی میں بہت سارے لوگ سرکاری سکولوں میں بھی رہائش پذیر ہیں۔ گورنمنٹ ہائی سکول کنڈا میں چوبیس خاندانوں کے ایک سو چھبیس افراد رہائش پذیر ہیں۔ ان میں سے ایک نسیم خاتون نے بتایا کہ 'کیمپوں میں تو لوگوں کو سب کچھ ملتا ہے لیکن ہماری کوئی مدد نہیں کرتا۔ ہم بے یارو مدد گار پڑے ہیں۔ حکومت پوچھتی ہے اور نہ این جی اوز والے‘۔

جب ان سے پوچھا کہ وہ کیمپوں میں کیوں نہیں ٹھہرتے تو انہوں نے کہا کہ ’ایک تو پردے کا مسئلہ ہے دوسرا کیمپوں میں گرمی بہت ہے اور ہمارے بچے وہاں بیمار پڑ جاتے ہیں۔۔۔لیکن ہم نے پھر بھی کوشش کی تھی مگر کیمپ والوں نے بتایا کہ ان کے پاس مزید گنجائش نہیں ہے‘۔

صوابی اور مردان کے کیمپوں میں جائزہ لینے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقریبا چار سال قبل زلزلے کے وقت جو جذبہ پاکستانی قوم، مخیر حضرات، این جی اوز، حکومت یا سیاسی و مذہبی جماعتوں اور دنیا بھر، خاص کرکے مسلمان ممالک کا نظر آیا ویسا جذبہ مالاکنڈ کے متاثرین کی مدد میں دیکھنے کو نہیں ملا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔