Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 4 june, 2009, 13:15 GMT 18:15 PST

یو این: ’سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور‘

کیمپ

تنظیم کے مطابق دو لاکھ آبادی پر مشتمل کیمپوں میں صفائی کے لیے درکار اشیا کی کمی درپیش ہے

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے مالاکنڈ کارروائی سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے اگر ضروری امدادی رقم فوری طور پر نہ مہیا کی گئی تو وہ آئندہ چند ہفتوں میں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیوں کے نگران مارٹن موگوونجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے کی گزشتہ دنوں چون کروڑ ڈالر سے زائد کی امداد کی اپیل پر اب تک انہیں محض بائیس فیصد رقم مہیا ہوئی ہے۔

متاثرین کی درست تعداد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی آ رہی ہے۔ ’متاثرین کی بڑی تعداد مسلسل نقل و حرکت کی حالت میں ہے لہٰذا اصل تعداد کا تعین مشکل ہے۔‘

اقوام متحدہ کے امدادی امور کے ادارے (اوچا) کے مطابق فنڈز کی عدم دستیابی کی صورت میں چھبیس لاکھ افراد کی دیکھ بھال مشکل ہو جائے گی۔ اس وقت عالمی ادارے کے پاس محض اٹھائیس کروڑ ڈالر کی رقم کی آدھی امداد دستیاب ہے۔

صحت کے منصوبوں کے لیے ضروری رقم کا محض گیارہ فیصد مل پایا ہے۔ خدشہ ہے کہ کیمپوں میں ضرورت سے زیادہ افراد کے رش، گندے پانی اور صفائی کی غیرمناسب صورتحال سے چھوت کی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران اوچا کا کہنا تھا کہ اس کے پاس ضروری ادویات کا ذخیرہ بھی اس ماہ کے اواخر تک ختم ہو جائے گا۔ تنظیم کے مطابق دو لاکھ آبادی پر مشتمل کیمپوں میں پہلے ہی صفائی کے لیے درکار اشیاء وغیرہ کی کمی درپیش ہے۔

دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صحت کے منصوبوں کے لیے ضروری رقم کا محض گیارہ فیصد اسے مل پایا ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ کیمپوں میں ضرورت سے زیادہ افراد کے رش، گندے پانی اور صفائی کی غیرمناسب صورتحال سے چھوت کی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے۔

حالیہ دنوں میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی آمد کے بعد حکام کو مزید دو کیمپ کھولنے پڑے ہیں ۔جس کے بعد ان کیمپوں کی مجموعی تعداد اکیس تک پہنچ گئی ہے۔ ان کیمپوں میں بجلی اور پانی جیسی سہولیات مہیا کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام ہو رہا ہے۔

امدادی کیمپوں میں بچوں اور عورتوں کی غذائی ضروریات کا بھی مردان کے اطراف، لوئر دیر اور پشاور کے اضلاع میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔ خوراک کی کمی کے شکار افراد کو مناسب خوراک کی فراہمی کے لیے مزید مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان مراکز میں اب تک سات ہزار بچوں اور ڈھائی ہزار عورتوں کا علاج ہوچکا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔