Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 4 june, 2009, 21:22 GMT 02:22 PST

’مالاکنڈ متاثرین کو ادائیگی منگل سے‘

قمر الزمان کائرہ نے بتایا کہ متاثرہ افراد کا ریکارڈ درست کرنے کے لیے حکومت نے خصوصی شکایت مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے بتایا ہے کہ نادرا نے مالاکنڈ کے متاثرین کے ریکارڈ کی چھان بین مکمل کرکے دو لاکھ انتیس ہزار خاندانوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں آئندہ منگل سے پچیس ہزار روپے کی نقد گرانٹ کی ادائیگی شروع کردی جائے گی۔

یہ بات انہوں نے بدھ کی شام کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی اور بتایا کہ پیر سے مالاکنڈ کے متاثرین کو یونائیٹڈ بینک (یو بی ایل) خصوصی کارڈ جاری کرے گا اور منگل سے انہیں رقوم کی فراہمی شروع ہوگی۔

ان کے مطابق دیگر بینکوں سے یو بی ایل کا کمپیوٹر سسٹم بہتر ہے اس لیے پہلے انہیں کام دیا گیا ہے اور بہت جلددیگر بینک بھی کام شروع کریں گے اور ملک بھر میں ڈھائی سو برانچیں متاثرین کو رقوم کی فراہمی کا کام کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ چھ مختلف اداروں نے بے گھر افراد کے اندراج کا کام کیا اور کئی متاثرین نے دو بار مختلف جگہوں پر انداراج کرایا۔ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق چار لاکھ سے زائد خاندانوں کا اندراج ہوا لیکن جب پاکستان کے شہریوں کا ڈیٹارکھنے والے ادارے نادرا نے چھان بین کی تو تاحال دو لاکھ انتیس ہزار خاندانوں کے درست کوائف سامنے آئے ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ فی خاندان سات افراد پر مشتمل ہے اور اس اعتبار سے درست قرار دیے گئے کوائف والے خاندانوں کے متاثرہ افراد کی تعدادسولہ سے سترہ لاکھ بنتی ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ پانچ فیصد لوگ ایسے ہیں جن کا نام اور تصویرتو ٹھیک ہے لیکن کسی کا پتہ تو کسی کا شناختی کارڈ نمبر درست نہیں لکھا ہوا ہے۔

قمر الزمان کائرہ نے بتایا کہ ایسے افراد کا ریکارڈ درست کرنے کے لیے حکومت نے خصوصی شکایت مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور فوری طور پر ان کا ریکارڈ درست کرکے انہیں کارڈ جاری کریں گے تاکہ وہ جلد رقوم حاصل کرسکیں۔ وزیر کے مطابق مالاکنڈ کے متاثرین میں سے صرف دو لاکھ لوگ کیمپوں میں آباد ہیں جبکہ باقی لوگ کیمپوں سے باہر کرائے کے مکانات یا اپنے رشتہ داروں کے پاس مقیم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے مالاکنڈ میں ڈھائی ہزار ریٹائرڈ فوجیوں کو دو سال کے کنٹریکٹ پر اور چھ سو سویلین کو پولیس میں بھرتی کرنے کی منظوری بھی دی ہے جس سے ان کے بقول متاثرہ افراد کو فوری روز گار بھی مل پائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے مرحلے میں متاثرین کو خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے بعد بہت جلد متاثرہ علاقوں میں بجلی اور دیگر روزمرہ کی سہولتیں بحال کرے گی تاکہ لوگ آسانی سے اور جلد اپنے علاقوں کو لوٹ سکیں۔

وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت ملک میں کھاد کی مصنوعی قلت پیدا ہونے کو روکنے کے لیے سات لاکھ ٹن کھاد درآمد کرے گی۔ ان کے مطابق پاکستان میں کھاد کی ضرورت انتیس لاکھ ٹن ہے، لیکن ملک میں کھاد کی پیداوار ضرورت سے ساڑھے تین لاکھ ٹن کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چار لاکھ ٹن درآمد شدہ کھاد بیس جون تک ملک میں پہنچ جائے گی اور باقی تین لاکھ ٹن بعد میں منگوائی جائے گی۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت سندھ کے کاشتکاروں سے مزید پچاس لاکھ ٹن چاول خریدے گی تاکہ کسانوں کو سہولت مل سکے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔