Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 27 may, 2009, 15:14 GMT 20:14 PST

ایک سال میں ایک سو دہشت گردی کی نذر

مناواں پولیس کے تربیتی مرکز پر دہشت گردی کے حملے میں پکڑےجانے والا ملزم

لاہور میں سنہ دو ہزار آٹھ سے اب تک ہلکے اور بھاری نوعیت کے کئی بم دھماکے اور خودکش حملے ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ پاکستان میں لاہور واحد شہر ہے جہاں ممبئی طرز کے حملے بھی کیے جا چکے ہیں ۔مجموعی طور پر ان حملوں میں ایک سو گیارہ افراد ہلاک ہوئے جن میں اکسٹھ سکیورٹی اہلکار شامل ہیں ۔

دو ہزار آٹھ

دس جنوری

اس دن لاہور ہائی کورٹ کے باہر بم دھماکہ ہوا۔ اس میں تئیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بیس پولیس اہلکار، دو شہری اور خودکش حملہ آور شامل تھے۔

چار مارچ

لاہور کی مصروف شاہراہ اپر مال پر واقع پاک بحریہ کے ایک نیول وار کالج میں خود کش دھماکے میں ایک حملہ آور سمیت کم از کم سات افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق دھماکے میں نیوی کے چار اہلکار ہلاک ہوئے۔

گیارہ مارچ

لاہور میں مال روڈ کے نزدیک واقع وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے دفتر اور ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ہونے والے دو خودکش بم دھماکوں مجموعی طور پر ستائیس افراد ہلاک اور ایک سو ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایف آئی اے کے بارہ اہلکار بھی شامل تھے۔ حملوں میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑیاں استعمال کی گئی تھیں۔

تیرہ اگست

خودکش حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور پچیس سے زائد زخمی ہوگئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس کے ایک سب انسپیکٹر اور دو خواتین بھی شامل تھیں۔ یہ بم دھماکہ ملک کی آزادی کے جشن شروع ہونے سے تھوڑی دیر قبل علامہ اقبال ٹاؤن کے دبئی چؤک پر شب گیارہ بجے کے قریب کیا گیا ۔

سات اکتوبر

لاہور کے گنجان علاقے گڑھی شاہو چوک میں یکے بعد دیگرے تین دھماکوں میں کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق یہ کم شدت کے بم تھے اور ان کا مقصد خوف وہراس پھیلانا تھا۔

بائیس نومبر

قذافی سٹیڈیم کے قریب واقع ایک ثقافتی مرکز میں اور اس کے پاس یک بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے ۔ دھماکوں میں کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق کم شدت کے ان دھماکوں کا بظاہر مقصد خوف وہراس پھیلانا تھا۔

دہشت گردی کے تازہ حملے میں دہشت گردوں نے فائرنگ بھی کی اور پھر ایک بارود سے بھری گاڑی کو بھی دھماکے سے اڑا دیا۔

چوبیس دسمبر

سرکاری افسروں کی رہائشی کالونی جی او آر II میں ایک گاڑی میں زور دار بم دھماکہ ہوا جس میں ایک خاتون ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے۔

دو ہزار نو

نو جنوری

دو مختلف تھیئٹروں کے قریب دوگھنٹوں میں پانچ کم شدت کے دھماکے ہوئے ہیں جس میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔

تین مارچ

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو سٹیڈیم لے جانے والی بس پر تقریباً ایک درجن حملہ آوروں کی فائرنگ سے سری لنکا کے آٹھ کھلاڑی زخمی اور پنجاب پولیس کے پانچ اور ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ۔ اس کے علاوہ دو نامعلوم افراد بھی مارے گئے ہیں۔

تیس مارچ

لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں واقع پولیس کے تربیتی مرکز پر صبح سات بجے کے قریب متعدد مسلح افراد نے حملہ کیا ۔کمانڈوز نے ساڑھے آٹھ گھنٹے کے آپریشن کے بعد پولیس کے تربیتی سینٹر کی عمارت پر قبضہ کر لیا ۔ اس آپریشن میں آٹھ پولیس اہلکار اور چار دہشت گرد ہلاک جبکہ سو کے قریب افراد زخمی ہوئے۔

ستائیس مئی

لاہور میں سٹی پولیس آفیسر اور ریسکیو 15 کے دفاتر کے باہر خودکش حملے میں تئیس افراد ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں نے وہاں لگائے بیریئر کے قریب آ کر پہلے فائرنگ کی اور اس کے بعد چھوٹا دھماکہ کیا۔ جوابی فائرنگ کے بعد حملہ آوروں نے بیریئر پار کرنے کے بعد بڑا دھماکہ کیا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔