Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 27 may, 2009, 05:30 GMT 10:30 PST

لاہور: خودکش حملہ، چوبیس ہلاک، 200 زخمی

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

تازہ ترین فلیش پلیئر یہاں دستیاب ہے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

لاہور میں سٹی پولیس آفیسر اور ریسکیو 15 کے دفاتر کے باہر خودکش حملے میں چوبیس افراد ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

ڈی سی او لاہور سجاد بھٹہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے میں حملہ آوروں نے وہاں لگائے بیریئر کے قریب آ کر پہلے فائرنگ کی اور اس کے بعد چھوٹا دھماکہ کیا۔ جوابی فائرنگ کے بعد حملہ آوروں نے بیریئر پار کرنے کے بعد بڑا دھماکہ کیا۔

تاہم پنجاب کے سینیئر وزیر راجہ ریاض نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ریسکیو 15 کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے جبکہ سٹی پولیس چیف کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہی واقعہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی عمارت کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔

ہمارے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ بظاہر اس حملے کا ہدف آئی ایس آئی کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ دھماکے کے بعد ادارے کی بیرونی دیوار کا بڑا حصہ گر چکا ہے۔ عمارت کی کھڑکیاں یا تو اکھڑ چکی ہیں یا اس کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ بلڈنگ میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ چکی ہیں۔جبکہ بلڈنگ کو چھپانے کے لیے جو اشتہاری بورڈ لگائے گئے تھے وہ اب ملبے میں پڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

حملے کے بعد دفتر کے سامنے کرینیں اور سکیورٹی اہلکار کھڑیں ہیں اور میڈیا کے نمائندوں کو دفتر میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

لاہور حملہ

اطلاعات ہیں کہ پولیس نے مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔

وزیر داخلہ رحمن ملک نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں شکست کے بعد شدت پسندوں نے دوسرے علاقوں کا رخ کر لیا ہے لیکن ہماری حکمت عملی کی وجہ سے وہ ماضی کی طرح بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے سے قاصر ہیں۔انہوں نےانسپکٹر جنرل پنجاب سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر ہمارے نامہ نگار ذیشان ظفر کو بتایا کہ ’دس بجے کے قریب ہائی ایس ویگن کو ریسکیو ون فائیو کے اور آئی آیس آئی کے دفاتر کے درمیان روکا گیا جس میں سوار چار افراد نے باہر نکل کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ شروع کی اور اس کے بعد عمارت کی جانب فائرنگ شروع کی اسی دوران ہائی ایس وین ایک زور دار دھماکہ سے پھٹ گئی ۔ دھماکے کی جگہ پندرہ فٹ گہرا گڑھا پڑا ہوا ہے۔‘

ایک اور عینی شاہد عامر علی نے بتایا کہ ’میرا دفتر دھماکے کی جگہ سے تقریباً تیس چالیس گز کے فاصلے پر ہے ۔ دس بجے کے قریب ایک ہلکے دھماکے کی آواز سنائی دی اور اس کے تھوڑی دیر کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ میرے دفتر کے شیشے ٹوٹ گئے اور میں معمولی زخمی ہوا۔‘

دس بجے کے قریب ہائی ایس ویگن کو ریسکییو ون فائیو کے دفتر اور آئی آیس آئی کے درمیان روکا گیا جس میں سوار چار افراد نے باہر نکل کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ شروع کی اور اس کے بعد عمارت کی جانب فائرنگ شروع کی اسی دوران ہائی ایس وین ایک زور دار دھماکہ سے پھٹ گئی ۔ دھماکے کی جگہ پندرہ فٹ گہرا گڑھا پڑا ہوا ہے۔

عینی شاہد

’دھماکے کے فوری بعد علاقے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے جبکہ ارد گرد تمام عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور سامنے واقع بعض دوکانوں کے دروازے تک ٹوٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں ۔ دھماکے کی جگہ کے سامنے گاڑیوں کے شو روم تھے جہاں کھڑی تمام گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں وہاں پہنچ گئیں اور لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنا شروع کر دیا۔‘

حملے کے بعد جائے وقوعہ کے آس پاس کے علاقے کو رینجرز نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے میں سو کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ عمارتوں سے باہر نکل آئے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد بھی فائرنگ کی کی آواز سنی گئی ہے۔

یہ عمارت لاہور کی ایک مشہور اور مصروف ترین شاہراہ پر واقع ہے اور اس کے گرد و نواح میں ایوانِ وزیرِ اعلیٰ اور لاہور کے اسمبلی ہال جیسی عمارتیں اور مال روڈ شامل ہے۔

یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے دس سے گیارہ بجے کے قریب ہوا ہے۔دھماکے کے بعد لاہور کے اہم ہسپتالوں میں ایمرجنسی لگا دی گئی ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پولیس نے وہاں سے مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔