Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 26 may, 2009, 08:59 GMT 13:59 PST

مردان کا’مِنی پاکستان‘

چرچ

اس وقت چرچ میں کئی مختلف مذاہب کے لوگ ساتھ مل کر رہ رہے ہیں

مردان کے سرحدی لوتھرن چرچ کے نوجوان بشپ کا دعویٰ ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ بنا ہوا ان کا چرچ ایک چھوٹا سا پاکستان ہے جہاں نقل مکانی کرکے آنے والے مختلف مذاہب کے لوگ ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور اپنی اپنی عبادت کرتے ہیں۔

اپنے اس دعوے کے حق میں بشپ پیٹر مجید بانیِ پاکستان محمد علی جناح کا ایک قول دہراتے ہوئے کہتے ہیں ’قائد اعظم کا جو پاکستان کا تصور تھا وہ یہی تھا کہ یہاں کی تمام اقوام اور مذاہب کے لوگ مل جل کر رہیں اور کھائیں پیئیں۔ اسی فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ہم نے اس چرچ کو چھوٹا سا پاکستان بنانے کی کوشش کی ہے۔‘

سوات بونیر اور شورش زدہ دیگر علاقوں سے بے گھر ہونے والے ہندو، سکھ، عیسائی اور مسلمان خاندانوں کے ایک ساتھ لگے خیمے اور کھانے کے برتن دیکھ کر بشپ پیٹر مجید کے دعوے پر یقین کرنا ہی پڑا۔

مردان کے اس مرکزی چرچ کے لان اور برآمدوں میں لگے خیموں میں ساڑھے تین سو افراد رہائش پذیر ہیں۔ ان میں بڑی تعداد مسیحی برادری کی ہے جبکہ چند گھرانے ہندو، سکھ اور مسلمانوں کے بھی ہیں۔ ان لوگوں کے مذہب تو مختلف ہیں لیکن ایک بات جو مشترکہ ہے وہ یہ کہ یہ سب بے گھر ہو چکے ہیں۔

جنگ شروع ہونے کے بعد جب مسیحی برادری کے یہ لوگ بے سرو سامانی کے عالم میں ہمارے پاس پہنچے تو یہ اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ چند مسلمان، ہندو اور سکھ خاندان بھی تھے۔ ہم اب یہ تو کر نہیں سکتے کہ کسی ایک کو بھی چرچ کی پناہ میں آنے سے روک سکیں۔ یوں ہمارا یہ چھوٹا سا پاکستان آباد ہوگیا

بشپ مجید

بشپ مجید نے بتایا کہ شدت پسندوں اور فوج کے درمیان جاری جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلم رہائش پذیر ہیں جن میں چند سو ہی ان کے چرچ تک پہنچ سکے ہیں۔

’جنگ شروع ہونے کے بعد جب مسیحی برادری کے یہ لوگ بے سرو سامانی کے عالم میں ہمارے پاس پہنچے تو یہ اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ چند مسلمان، ہندو اور سکھ خاندان بھی تھے۔ ہم اب یہ تو کر نہیں سکتے کہ کسی ایک کو بھی چرچ کی پناہ میں آنے سے روک سکیں۔ یوں ہمارا یہ چھوٹا سا پاکستان آباد ہوگیا۔‘

پیٹر مجید نے کہا کہ مختلف مذاہب کے ان لوگوں کے لیے ایک ساتھ کھانا لگتا ہے، سب مل کر کھاتے ہیں اور اپنی اپنی عبادت کرتے ہیں۔

مردان کے نواح میں بنی سرکاری خیمہ بستیوں کے بعد اس چرچ میں رہائیش پذیر لوگوں کو ملنے والی سہولتیں دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ خیمہ بستیوں کی نسبت یہ لوگ کافی آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔

تیمرگرہ کے ہندو پریتم چند نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں اس چرچ میں تمام سہولتیں دستیاب ہیں۔ ’یہ دیکھیں تکیہ بھی ہے، بستر بھی انہوں نے دیا ہے۔ پانی کا کولر بھی آپ کے سامنے پڑا ہے۔ کھانا بھی وقت پر ملتا ہے۔ بھگوان کا بہت شکر ہے۔‘

اس سوال پر کہ دیگر مذاہب کے ساتھ ایک جگہ رہنا اور کھانا پینا انہیں کیسا لگتا ہے، پریتم چند نے کہا ’ہمیں تو پتہ بھی نہیں چلتا کون ہندو ہے کون سکھ اور مسلمان۔ دیکھنے میں سب ایک سے ہیں۔ کل ایک عورت نے کھانے کی میز پر جے رام جی کہا تو ہم نے بھی جواباً کہہ دیا۔ اب پتہ نہیں وہ ہندو تھی بھی یا نہیں۔‘

دیر کے وکٹر نے کہا کہ انہیں چرچ میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے لیکن ان کی جیب میں پیسے نہیں ہیں جس سے بہت مشکل ہو رہی ہے۔ ’گولہ باری شروع ہوئی تو ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے بھاگے۔ ایسے میں پیسے بھی نہیں رکھ سکے۔ اب بچے کبھی پیسے مانگتے ہیں تو بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔‘

انہیں نیا سکول زیادہ اچھا لگتا ہے۔ بٹ خیلہ کے سکول میں ماسٹر زبردستی مسلمانوں کی نماز اوردعائیں یاد کرواتے تھے۔ یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔

ساجد

بٹ خیلہ کی جمیلہ نے بتایا کہ بچوں کے اور ہمارے پاس کپڑے بھی نہیں ہیں۔ ’جو کپڑے پہنے تھے انہی میں آ گئے اب تو ان میں سے بدبو بھی آنے لگی ہے۔ چار پیسے ملیں تو کچھ کپڑے ہی بنا لیں۔‘

اس چرچ میں جنگ زدہ علاقوں سے آنے والوں میں ساٹھ کے قریب بچے بھی ہیں جن کی تعلیم بھی پہلے دن ہی سے شروع کر دی گئی ہے۔

بشپ مجید کے مطابق چرچ کے احاطے میں بنے سکول میں ان بچوں کو عمر کے لحاظ سے کلاس میں بٹھا دیا گیا ہے اور ان کے لیے کتابوں کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔چھٹی جماعت میں بغیر یونیفارم کے بیٹھے بٹ خیلہ کے ساجد نے بتایا کہ انہیں نیا سکول زیادہ اچھا لگتا ہے۔

’بٹ خیلہ کے سکول میں ماسٹر زبردستی مسلمانوں کی نماز اور دعائیں یاد کرواتے تھے۔ یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔