
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ جیٹ طیاروں نے مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں دو شہریوں سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں اٹھ عسکریت پسند بتائے جاتے ہیں۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح لڑاکا طیاروں نے آپر اور لوئر اورکزئی ایجنسی کے علاقوں خوگہ سیڑئی، سمپگہ، ڈبوری مرکز، تورکانڑہ، انجنڑی اور مشتی میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے مراکز کو نشانہ بنایا۔
ایک اعلی پولیٹکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بمباری میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں اٹھ شدت پسندوں کے علاوہ دو عام شہری بھی شامل ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔ ان کے مطابق شیلنگ میں طالبان کے مراکز اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بمباری میں بازاروں اور ایک سرکاری ٹیلی فون ایکسچینج کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
اورکزئی ایجنسی میں محدود پیمانے پر فضائی کاروائیاں گزشتہ دو تین ہفتوں سے جاری ہیں۔ اس سے پہلے بھی آپر اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام غلجو پر دو بار بمباری کی گئی تھی جس میں زیادہ تر عام شہری مارے گئے تھے۔ ان کاروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر قریبی شہروں ہنگو اور کوہاٹ کی جانب نقل مکانی کی تھی۔ #
© MMX