
پاکستان کی فوج نے دو مئی سے مینگورہ آپریشن شروع کر رکھا ہے
پاکستانی فوج کے مطابق سوات کے صدر مقام مینگورہ کے گلی کوچوں میں طالبان کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں اور فوج نے زیادہ تر مقامات کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
اتوار کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران وتکیہ چوک، نواہ کلی چوک، نشاط چوک، گلشن چوک، گرین چوک، حاجی بابا چوک اور شہراب خان چوک کو کلیئر کردیا ہے۔
بیان کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے میں دس شدت پسند مارے گئے جبکہ چودہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ لڑائی میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔
اتوار کو مینگورہ کے ایک شہری نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح سے نشاط چوک اورگلشن چوک میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔
اب بھی مینگورہ شہر میں ہزاروں لوگ محصور ہیں جو لڑائی اور کرفیو کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل کرفیو اور جھڑپوں کی وجہ سے لوگوں کے پاس اشیائے خورد و نوش ختم ہو گئی ہیں اور لوگ ایک وقت کھا کرگزارہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دو ہفتوں سے بجلی بھی بند ہے جس کی وجہ سے شہر کے اندر پانی کی شدید قلت ہے۔
فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے دستے پیوچار گاؤں میں داخل ہوگئے ہیں جہاں بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔ پیوچار میں سرچ آپریشن کے دوران بم بنانے کے ایک کارخانے پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق وادئ پیوچار کے لوگ فوج سے تعاون کررہے ہیں۔
جبکہ پہاڑی علاقے مالم جبہ میں بھی شدت پسندوں کی موجودگی پر سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں شروع کردی ہیں جس میں پانچ شدت پسند مارے گئے ہیں۔ سرکاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تحصیل مٹہ اور خوازہ خیلہ میں صبح نو بجے سے چار بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق آپریشن شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ فوج نے خوراک اور امدادی اشیاء سے بھرے پندرہ ٹرک بالائی سوات کے علاقوں مدئن، کالام اور بحرین بھیجے ہیں۔ اس کے علاوہ سپیشل سپورٹ گروپ نے بھی بالائی سوات کے متاثرین میں خوراک اور ادوایات تقسیم کی ہیں۔
دو دن پہلے مدئن، بحرین اور کالام کے سینکڑوں لوگوں نے علاقے میں کرفیو کے نفاذ اور راستوں کی بندش کی وجہ سے اشیائے خورد و نوش کی قلت کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرے میں شامل ایک شخص عابد حسین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ لوگوں نے کرفیو کے احکامات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف 'آٹا دو یا راستہ دو‘ کے نعرے لگائے۔
گزشتہ روز فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان کے اہم کمانڈر عثمان المعروف قصاب سمیت سترہ شدت پسندوں کو جمعہ اور سنیچر کو ہونے والی کاروائی میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
© MMX