
کراچی میں اب تک دس ہزار افراد کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے: وقار مہدی
سندھ حکومت نے مالاکنڈ آپریشن کے متاثرین کو کراچی شہر سے باہر کیمپوں میں بسانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن قوم پرست جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کو کیمپوں میں بسانے کی بجائے انہیں صوبہ سرحد تک محدود رکھا جائے۔
جمعہ کے روز سے یہ کیمپ سپر ہائی وے پر نادرن بائی پاس کے قریب قائم کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلٰی سندھ کے معاون وقار مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کیمپوں میں پانچ ہزار خاندانوں کی رہائش کے انتظامات کیے جارہے ہیں جنہیں کھانے پینے سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا ’رجسٹریشن کا کام شروع ہوگیا ہے اور اس حوالے سے تمام بس ٹرمینل اور ریلوے سٹیشن پر متاثرین کو رجسٹر کیا جارہا ہے۔ جو بھی رجسٹر ہوں گے انہیں کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا۔ محکمہ داخلہ کی نگران میں یہ کام جاری ہے جبکہ ریلیف کمشنر ان کے ٹھہرنے کے انتظامات کر رہے ہیں ۔‘
انہوں نے ان اطلاعات کو رد کیا کہ کراچی میں ایک لاکھ کے قریب متاثرین پہنچ چکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اب تک دس ہزار لوگ رجسٹر کیےگئے ہیں۔

سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے آپریشن کے متاثرین کی سندھ آمد پر شدید خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے بھی متاثرین کو رجسٹر کیا جارہا ہے اور کراچی میں متاثرین میں رجسٹریشن فارم تقسیم کیے گئے ہیں۔ اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید کا کہنا ہے کہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں سے رابطہ کیا جارہا ہے اور ان کے خدشات دور کیے جائیں گے۔
’جو لوگ جی ایم سید اور باچا خان کے پیروکار ہیں انہیں اعتماد میں لیا جائے گا اور تسلی کرائی جائے گی اور اگر ان کے تحفظات ہیں تو انہیں بھی دور کیا جائے گا۔ متاثرین ایسے لوگ نہیں ہیں کہ یہاں آباد ہوجائیں گے اور ووٹ رجسٹر کرائیں گے ان میں بھی اسی فیصد خواتین اور بچے ہیں۔‘
دریں اثناء جمعرات کے روز جئے سندھ قومی محاذ کے احتجاج میں حکمران اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت نے شرکت کی اور سنیچر کو عام ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے جئے سندھ کے ایک وفد نے آصف بالادی کی قیادت میں نائین زیرو پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے اراکین سے بھی ملاقات کی تھی۔
جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سندھ کی سرحد کو سیل کیا جائے اور متاثرین کو صوبہ سرحد تک محدود رکھا جائے۔
انہوں نے کہا ’ ہم اے این پی کو متنبہ کرتے ہیں کہ سندھ کی دھرتی آپ کی ملکیت نہیں ہے آپ صوبہ سرحد میں اپنے لوگوں کو بسائیں وہاں ان کی خدمت کریں۔ خوامخواہ چار پانچ سو کلومیٹر سفر کرانے کی انہیں زحمت نہ دیں۔‘
ہم اے این پی کو متنبہ کرتے ہیں کہ سندھ کی دھرتی آپ کی ملکیت نہیں ہے آپ صوبہ سرحد میں اپنے لوگوں کو بسائیں وہاں ان کی خدمت کریں، خوامخواہ چار پانچ سو کلومیٹر سفر کرانے کی انہیں زحمت نہ دیں۔
بشیر قریشی
بشیر قریشی کا کہنا تھا کہ جو کیمپ قائم کیے گئے ہیں انہیں ختم کیا جائے اور جو لوگ آئے ہیں انہیں تفتیش کے بعد واپس بھیجاجائے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے انہیں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے اور نہ انہیں ان پر یقین ہے کہ یہ لوگ واپس چلے جائیں گے۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اورصدر آصف زرداری کے درمیان گزشتہ شب ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ اعلامیے کے مطابق الطاف حسین نے صدر زرداری کو متاثرین کی آڑ میں مبینہ تخریب کاروں کی آمد کے بارے میں عوام میں پائی جانے والی شدید بے چینی اورتشویش سے بھی آگاہ کیا ۔
انہوں نے صدر سے کہا کہ سندھ ، پنجاب اور بلوچستان میں نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندانوں کی رجسٹریشن لازمی کرائی جائے اورانہیں کیمپوں تک محدود رکھا جائے۔
© MMIX