Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 23 may, 2009, 00:35 GMT 05:35 PST

چترالی اور یونانی رسم ورواج

چترال کے عجائب گھر میں رکھی اشیاء

پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع چترال میں کافرستان کے نام سے مشہور تین وادیوں پر مشتمل علاقے میں صدیوں سے آباد کالاش قبیلے کی مذہبی اور ثقافتی ریت و رسم ہوں یا موسیقی، رقص اور لباس ان کی بہت ساری چیزیں یونان کے لوگوں سے ملتی جلتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یونان کی حکومت اور بعض رضا کار تنظیمیں دنیا کے قدیم ترین کالاش ورثے کو بچانے کے لیے سرگرداں ہیں۔ اس بات کا علم مجھے بمبوریت میں واقع یونان کی حکومت کی امداد سے قائم کردہ ایک کمپلیکس دیکھنے کے بعد ہوا۔

جہاں میری ملاقات ایک یونانی رضا کار تنظیم ’گریک والنٹیئرز‘ سے وابستہ افانا سیوش لیرونیز، جو گزشتہ پندرہ برسوں سے کلاش لوگوں کی فلاح بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں سے ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ یونان کی حکومت نے کالاش قبیلے کے ورثے کے تحفظ کے لیے تین لاکھ یورو کی لاگت سے یہ کمپلیکس تعمیر کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’کلاشہ گھر‘ کے نام سے تعمیر کردہ اس کمپلیکس میں کالاش لوگوں کی زندگی کی عکاسی کرنے والی اشیاء کا عجائب گھر بنایاگیا ہے۔ کالاش زبان میں پرائمری تعلیم دی جاتی ہے، خواتین اور بچوں کے لیے صحت کے مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

کلاشہ گھر میں داخلہ ٹکٹ تو بیس روپے ہے لیکن تصاویر کھینچنے کے لیے دو سو روپے فیس مقرر ہے۔

کالاش لوگوں کی ثقافت پر کام کرنے والے یونانی

اندر گئے تو عجائب گھر میں کالاش قبیلے کے استعمال کے برتن، کپڑوں، چار پائی اور دیگر اشیاء نظر آئیں۔ کلاش لوگوں کے رہن سہن کے لیے ایک منزلہ مکان بھی بنایا گیا ہے جہاں اوپر چڑھنے کے لیے درخت کے تنے کو قدموں کے اعتبار سے کاٹ کر اُسے سیڑھی بناتے ہیں۔

کچھ غیر ملکی بھی میوزیم میں نظر آئے جو کلاش کلچر سے متعلق اشیاء کا بغور مطالعہ کرتے رہے۔ عجائب گھر میں کلاش قبیلے کے دو مختلف سائز کے ڈھول اور موسیقی سے متعلق ساز بھی پڑے تھے۔ بعد میں وہاں افانا سیوش لیرونیز نے بتایا کہ کلاش قبیلے کی کئی مذہبی، ثقافتی رسومات، موسیقی، روایات، لباس اور کئی باتیں ایسی ہیں جو یونان کے لوگوں سے ملتی جلتی ہیں۔کالاش قبیلہ دنیا کا اور خاص کرکے پاکستان کا ثقافی خزانہ ہے۔ آج کل دنیا کی اس قدیم ثقافت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ہم انہیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یونان کی حکومت کئی کالاش لڑکوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالرشپ دے کر یونان بھی بھیجتی ہے۔ ایسے ہی ایک نوجوانوں میں سے تعلیم خان بھی ہیں۔ بڑے بالوں والے تعلیم خان نے بتایا کہ ’میں یونان میں پڑھتا ہوں۔ ہم سات کالاش لڑکے وہاں سکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے گئے ہیں۔ میں لسانیات میں ماسٹرز کرکے اپنی کالاش زبان کی ترقی کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ ہماری زبان اور ثقافت خطرے میں ہے ۔ یہ ختم ہوجائے گی۔‘

چترال ضلع صوبہ سرحد میں خواندگی کے اعتبار سے بھی دیگر اضلاع سے آگے ہے۔ چترال کے غیر مسلم اقلیت کالاش کی طرح مسلمانوں میں بھی لڑکیوں کی تعلیم کا رجحان بہت ہے۔

گائڈ عزیز احمد نے بتایا کہ چترال کے مسلمانوں کی بعض ریت و رسم بھی عجیب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہم اپنے کزنز میں شادیاں کرنے کو بہت معیوب سمجہتے ہیں اور دور کے رشتہ داروں میں شادیاں کرتے ہیں اور غیر چترالیوں میں بھی رشتے دیتے اور لیتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی کہ رشتہ اپنے علاقے سے دور ہونا چاہیے۔‘

عزیز احمد نے بتایا کہ ضلع چترال ویسے تو صوبہ سرحد کا حصہ ہے اور عام تاثر ہے کہ یہاں کا کلچر اور زبان بھی پٹھانوں کی طرح ہے۔ لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ چترال میں کھوار زبان بولی جاتی ہے اور بہت کم لوگ پشتو زبان سمجہتے ہیں۔ ان کی باتیں جاری تھیں کہ وادی بمبوریت میں ایک نہر کے قریب پہنچ گئے۔

نہر کے اوپری حصے سے پانی کا رخ موڑ کر لکڑی سے بنائے گئے چوؤرس پائپ کی طرف کیا گیا۔ جہاں سے یہ پانی کے سیمینٹ سے تعمیر کردہ تالاب میں جمع ہوتا اور وہاں سے اُسے نیچے کی طرف سلوپ کی صورت میں بڑی تیزی سے چھوڑا جاتا اور وہ ایک لکڑی کا چرخہ چلاتا۔ پانی سے چلنے والا وہ چرخہ موٹر چلاتا اور موٹر سے بجلی بنتی۔ ایک لاکھ روپوں کی لاگت سے مقامی لوگ تین سے پانچ کلو واٹ تک بجلی پیدا کرتے ہیں۔

عزیز احمد نے بتایا کہ یہاں آٹا پیسنے والی چکی ہو یا پھر دیسی انداز میں بجلی پیدا کرنے کا طریقہ، سب کا دارومدار پانی پر ہے اور یہاں پانی بے تحاشہ ہے۔ ہر وادی میں ندی ہے اور چشمیں بھی بہت ہیں۔ دیسی بجلی پیدا کرنے کا طریقہ دیکھ کر بمبوریت سے واپس چترال پہنچے کیونکہ کالاش میلہ بھی ختم ہورہا تھا۔
--------------
( اس سلسلے کی چھٹی اور آخری قسط میں پڑھیے گا کہ چترال کا ہر تیسرا آدمی پرویز مشرف کو کیوں چاہتا ہے۔۔ کیا پرویز مشرف آئندہ چترال سے انتخاب میں حصہ لینے والے ہیں!! )۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔