Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 20 may, 2009, 18:58 GMT 23:58 PST

بے گھروں کیلیے ائر کنڈیشنڈ خیمے

نقل مکانی

سوات جیسے ٹھنڈے علاقوں کے کو مردان اور صوابی جیسے شدید گرم علاقوں کے کیمپوں میں رکھا گیا ہ

امریکہ نے اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کی ہنگامی امداد کے لیے ائر کنڈیشنڈ خیمے اور ایک لاکھ بیس ہزار افراد کے لیے حلال کھانوں پر مشتمل امدادی سامان بدھ کو پاکستانی حکام کے حوالے کردیا ہے۔

امریکی سفارتخانے کے ترجمان کے مطابق بدھ کو امریکہ کا ایک مال بردار فوجی طیارہ یہ امدادی سامان لے کر چکلالہ ائر بیس اسلام آباد پہنچا اور یہ سامان امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے 'آئی ڈی پیز رلیف آپریشنز ‘ کے رابطہ کار لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد کے حوالے کیا۔

سوات جیسے ٹھنڈے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگوں کو مردان اور صوابی جیسے سخت ترین گرم علاقوں میں واقع کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ گرمی کے مارے متاثرین کے لیے کسی ملک نے ائرکنڈیشنڈ خیمے فراہم کیے ہیں۔

تاہم یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں بجلی کی قلت ہے اور آٹھ سے دس گھنٹے روزانہ بجلی کی معطلی میں یہ ائر کنڈینشنڈ خیمے کتنے سود مند ثابت ہوں گے؟

ماضی میں جب زلزلہ کے دوران سخت سردی سے بچنے کے لیے اچھی ساخت والے خیمے ملے تھے تو انتظامیہ نے یہ کہتے ہوئے وہ اپنے استعمال کے لیے مختص کردیے تھے کہ اگر وہ چند لوگوں کو فراہم کریں گے تو دوسرے لوگ احساس کمتری میں مبتلا ہوجائیں گے۔امریکی سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کردہ امدادی اشیا میں بنیادی خوراک اور سر چھپانے کے عارضی ٹھکانے شامل ہیں جو صوبہ سرحد کے متاثرین کو فراہم کیے جائیں گے۔

امریکی سفیر نے اس موقع پر کہا کہ 'ہم بے گھر ہونے والوں کو فوری طور پر امداد فراہم کرنے کی ہنگامی ضرورت کو سمجھتے ہیں اور ہم نے ان کی اشد ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان کی اعانت کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے ‘۔

امریکہ نے مقل مکانی کرنے کے لیے مزید امداد بھی دی ہے

بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ امداد امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے اس بیان کے بعد آئی ہے جس میں انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری امداد کے طور پر گیارہ کروڑ ڈالر کی منظوری کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی عوام نے پاکستان کو خیمے، کمبل، کھانے پینے کے برتن، صابن، بستر اور دیگر اشیا کی خریداری کے لیے انچاس لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کی تھی۔

امریکہ نے پچاس ہزار ٹن گندم، اور ساڑھے چھ ہمار ٹن سے زیادہ خوردنی تیل، جنریٹر اور واٹر پمپ چلانے کے لیے ٹرانسفارمر، لیپ ٹاپ کمپیوٹر، کرائے کی گاڑیاں اور ہنگامی امدادی کاموں کے لیے انٹر نیٹ کی سہولت بھی فراہم کی تھی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔