Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 19 may, 2009, 10:35 GMT 15:35 PST

متاثرین آپریشن، سندھ آمد پر تحفظات

کراچی میں نقل مکانی

مالاکنڈ میں فوجی آپریشن کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے سندھ کی طرف نقل مکانی کی ہے

مالا کنڈ ڈویژن میں آپریشن کے بعد متاثرین کی ایک بڑی تعداد نے صوبہ سندھ اور خاص طور پر کراچی کا رخ کیا ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے کی سرحد پر ان لوگوں کا اندراج کیا جائے گا۔ لیکن سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے متاثرین کی آمد پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

حکومت سندھ کے مطابق صوبے کے سرحدی اضلاع گھوٹکی اور کشمور میں داخل ہونے والے تمام متاثرین کا اندراج کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری کا کہنا ہے کہ ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان متاثرین کا ریکارڈ رکھا جائے اور جو لوگ رجسٹریشن نہیں کراسکے ہیں وہ متعلقہ تھانوں میں اندراج کروائیں۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ان متاثرین کی آڑ میں کچھ شرپسند بھی آسکتے ہیں اس لیے صوبہ سندھ اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھے گا۔

ہم یہ نہیں چاہتے کہ معصوم لوگوں کی آڑ میں غلط نیت سے کوئی داخل ہو۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جن کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے ان میں غیر ملکی عناصر بھی موجود ہیں اس لیے چوکنا رہنا ہے۔

شازیہ مری

انہوں نے کہا کہ ’اس ریکارڈ کا امن و امان کی صورتحال سے بھی موازنہ کیا جائے گا، ہم یہ نہیں چاہتے کہ معصوم لوگوں کی آڑ میں غلط نیت سے کوئی داخل ہو۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جن کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے اس میں غیر ملکی عناصر بھی موجود ہیں اس لیے چوکنا رہنا ہے۔‘

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ متاثرین کے لیے کیمپ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ان کی شناخت میں آسانی۔ وہ بار بار یہ کہتی رہیں کہ ان لوگوں کو اس وقت تک یہاں رکھا جائے گا جب تک علاقے میں صورتحال معمول پر نہیں آجاتی۔

انہوں نے کہا ’سندھ کے خدشات ہیں کہ پہلے بھی پاکستان کا کون سا حصہ ہے جہاں سے لوگ آ کر سندھ میں نہیں بسے۔ مگر پھر بھی سندھ کو جس طرح وسائل ملنے چاہیئں وہ قومی مالیاتی ایوارڈ کی شکل میں ہوں یا غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے سندھ کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ متاثرین کو بھی اپنا اندر ٹٹولنا چاہیے۔ جب ان کے علاقوں میں صورتحال بہتر ہو تو وہ عزت کے ساتھ لوٹ جائیں۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ جب بین الاقوامی تعاون کے باوجود حکومت افغان پناہ گزین کو واپس بھیجنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تو ایک ہی ملک کے شہری کو دوسرے صوبے سے کیسے بیدخل کیا جاسکتا ہے، تو صوبائی وزیر شازیہ مری کا کہنا تھا کہ اس بارے میں قانون سازی کی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب سندھ کی قوم پرست جماعتوں جیے سندھ قومی محاذ، عوامی تحریک اور سندھ ترقی پسند پارٹی نے آپریشن کے متاثرین کی سندھ آمد پر شدید خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

نقل مکانی ہوتی ہے تو چند لوگ گھر چھوڑتے ہیں یہاں تو پورے کے پورے گاؤں اور شہر نے سندھ کا رخ کیا ہے، ہماری دھرتی پر ایک طوفان آرہا ہے جس میں ہم اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے اور ہمارے روزگار پر قبضہ ہوجائے گا

بشیر قریشی

جیے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی نے متاثرین کو صوبہ سندھ بھیجنے کے فیصلے کو سازش قرار دیا اور کہا کہ ایم کیو ایم کو اس بارے میں اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔

’نقل مکانی ہوتی تو چند لوگ گھر چھوڑتے ہیں یہاں تو پورے کے پورے گاؤں اور شہر نے سندھ کا رخ کیا ہے۔ ہماری دھرتی پر ایک طوفان آرہا ہے جس میں ہم اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے اور ہمارے روزگار پر قبضہ ہوجائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سندھ جو امن و پیار، رواداری اور صوفیاء اکرام کی دھرتی ہے اس پر جب طالبان آ کر آباد ہوں گے تو یہاں کے امن کو تباہ کردیں گے۔

سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ سندھ کو بین الاقوامی کیمپ بننے نہیں دیا جائے گا۔ ’متاثرین کی اتنی بڑی تعداد میں آمد سے مقامی لوگ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے اور امن امان کو مستقل خطرہ رہے گا۔‘

سندھ ترقی پسند پارٹی نے بیس مئی اور جیے سندھ قومی محاذ نے اکیس مئی کو احتجاجی مظاہروں اور تئیس مئی کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔