
آگ برساتے سورج اور پناہ گزینوں کے درمیان پتلی چادر کے خیمے کی رکاوٹ ہے
میں ہیلی کاپٹر سے اترا تو لُو کے تھپیڑوں، چلچلاتی دھوپ اور توے کی طرح گرم چٹیل میدان نے میرا استقبال کیا۔
وزیراعلٰی پنجاب اور وزیراعلٰی سرحد تو پناہ گزینوں کے کیمپ میں چلے گئے اور میں نے اے این پی کے رکن قومی اسمبلی استقلال خان کی نئی کار میں پناہ لی اور اپنا موبائل فون چارجنگ پر لگا دیا۔ موبائل فون چارج ہونے کا بہانہ کر کے ائرکنڈیشنڈ کار میں بیٹھا رہا۔
کچھ دیر بعد پیاس نے ستانا شروع کیا۔ اردگرد چٹیل میدان اور سامنے حسرت زدہ کیمپ تھے۔ ان پناہ گزینوں کے استعمال کا گرم اور گندہ پانی پی کر بیمار ہونے سے بہتر پیاسا رہا جائے، میں نے فیصلہ کرلیا۔
اس بات کا افسوس ہوا کہ میں نے رسالپور ایئربیس کے آرمی انجینئرنگ میس میں جی بھر کر جوس کیوں نہ پی لیا حالانکہ باوردی اور مؤدب ویٹر بار بار مختلف پھلوں کے رنگ برنگے جوس قیمتی بلوری پیمانوں میں میرے سامنے لاتے رہے تھے۔
رسالپور سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اب ہم مردان کے علاقے تخت بائی پہنچ چکے تھے۔ شہباز شریف کیمپوں کا دورہ کر رہے تھے اور میں فوجی میس کے یخ بستہ ماحول کا تصور کر کر کے خوش ہوتا رہا۔
فوجی افسران نے کس قدر پرتپاک انداز میں استقبال کیا، کرسی تک رہنمائی کی گئی۔ میں اور دو صحافی ذرا الگ بیٹھ گئے تو وزرائے اعلٰی کے نزدیک منقش کرسیاں رکھ کر ہمیں وہاں بٹھایا گیا۔
چائے کے نام پر جو کچھ پیش کیا گیا اس کا جواب نہیں تھا، چکن تکہ، سیخ کباب، دوطرح کے نگٹس، غیرملکی کریم سے بھرے سینڈوچ تو تھے ہی لیکن میٹھی کریم والے دھی بھلوں کا ذائقہ تو ناقابل فراموش ہے۔
میں انہیں تصورات میں گم تھا کہ اچانک کچھ ہلچل ہوئی اور لاہور کے دو مزید صحافی گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے کیمپوں سے باہر آتے دکھائی دیے۔ دونوں اپنی اپنی نوٹ بکس سر پر رکھ دھوپ سے بچنے کی کوشش کرتے تیز قدم اٹھاتے ہیلی کاپٹر کی جانب جاتے دکھائی دیے۔ مجھے بے چینی شروع ہوگئی کہ ہیلی کاپٹر سٹارٹ ہونے سے پہلے مجھے بھی وہاں پہنچ جانا چاہیے۔
موبائل چارجنگ کا بہانہ ختم کرکے میں گاڑی سے باہر نکلا، لُو نے کھینچ کر ایک تھپڑ میرے منہ پر رسید کیا، سخت زمین پر پاؤں رکھا تو گرم زمین نے دھمکی دی کہ تلووں سے ہوتے ہوئے دماغ تک پہنچوں گی۔
العطش العطش پکارتا ہیلی کاپٹر کے پاس پہنچا۔ ٹھنڈے پانی کی بوتل کی سیل کھول کر منہ سے لگائی تو جان میں جان آئی۔ایک ایک کرکے لاہور سے آنے والی ٹیم کے ارکان ہیلی کاپٹر کے نزدیک پہنچنا شروع ہوگئے۔
صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور نے اپنی واسکٹ اتار کر ہیلی کاپٹر کی سیٹ پر پھینکی اور از راہ مذاق پائلٹ کو کہا کہ ذرا ہیلی کاپٹر کے پنکھے تو چلادو گرمی لگ رہی ہے۔ پائلٹ کے علاوہ کسی کو ہنسی نہیں آئی کیونکہ گرمی کی شدت نے کسی کو اس قابل نہیں چھوڑا تھا۔

میں نے سوچا کہ سوات جیسے ٹھنڈے علاقے میں رہنے والےلوگ قہرآلود گرمی کو کس طرح برداشت کررہے ہوں گے؟
معروف کالم نگار عطاءالحق قاسمی نے کہا کہ یار تم لوگ تو جوان ہو میں تھک گیا ہوں کچھ کرو۔ دوسرے سینئیر کالم نویس ہارون رشید نے کہا کہ آپ کو (گرمی سے بچنے) کی خود ہی کوشش کرنا ہوگی۔ عطاءالحق قاسمی صاحب نے برجستہ جواب دیا کہ ان حالات میں خود کوشش کی بجائے ’خودکش‘ ہوسکتا ہے۔ شدت گرمی سے ہنسنا اب بھی محال تھا لیکن سینئیرز کے احترام میں سب نے کوشش کی۔
اب سب کو وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف کی واپسی کاانتظار تھا اور ان کی تاخیر چبھنے لگی۔ میں نے سوال اٹھایا یار یہ امداد دے کراور میڈیا سے گفتگو کرکے فارغ کیوں نہیں ہوتے، خوامخوہ کیمپوں میں پھر رہے ہیں۔
کسی سے کوئی جواب نہ پا کر میں نے پھر کہا کہ یار یہ شہباز شریف سوتے نہیں ہیں؟ ایک سینیئر صحافی نے جواب دیا کہ وہ خود سوئیں یا نہ سوئیں لیکن انہیں یہ ضرور پتہ ہوتا ہے کہ قاسمی صاحب کتنے بجے سوتے اور کتنے بجے اٹھتے ہیں۔
گرمی کی شدت بھلانے کے لیے خوش گپیاں یا فضول گوئیاں جاری تھیں لیکن آسمان آگ برساتا رہا۔ کچھ دیر کے بعد شہباز شریف لوٹے تو خدا خدا کر کے ہیلی کاپٹر ہوا میں بلند ہوا تو کچھ جان میں جان آئی۔ رسالپور سے ہوتے ہوئے اس کا رخ اسلام آباد کی جانب ہوا تو دل کو طمانیت ملی۔
توبہ ہے تمام تر سرکاری آسائشوں اور سہولتوں کے باوجود مردان میں چند منٹ گزارنا کتنا مشکل ثابت ہوئے تھے حالانکہ لاہور والے سخت گرمی میں ٹریفک بھری آلودہ سڑکوں پر زندگی گذارنے کے عادی ہیں۔ یہ سارا سفر نامہ لکھتے ہوئے بس ایک سوچ مسلسل میرے دماغ میں چپکی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ سوات جیسے ٹھنڈے علاقے میں رہنے والے لوگ قہرآلودگرمی کو کس طرح برداشت کررہے ہوں گے؟
وہ بے سروسامانی کے عالم میں ہیں، بجلی، پانی اور خوراک نہیں ہے اور آگ برساتے سورج اور ان کے درمیان بمشکل سی پتلی چادر کے خیمے کی رکاوٹ ہے۔صعوبتیں برداشت کرنے والوں میں بچے بھی ہیں عورتیں بھی اور بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں۔
یہ مشکل چند سو یا چند ہزار افراد پر نہیں آئی بلکہ بارہ لاکھ سے زیادہ یعنی پورے اسلام آباد شہر جتنی پوری آبادی اس آفت کا شکار ہوئی ہے۔
© MMIX