
تینوں وادیوں میں تیرہ سے سولہ مئی تک یہ موسم بہار کی آمد کا میلہ لگتا ہے
چترال سے کافرستان روانہ ہوئے تو راستے میں آیون نامی خوبصورت وادی سے گزرنا پڑا اور گائیڈ عزیز احمد نے بتایا کہ آیون کے لوگوں نے کیلاش قبیلے کے لوگوں کو برسوں تک لوٹا اور انہیں معاشی غلام بنائے رکھا۔
انہوں نے بتایا کہ کیلاش قبیلے کے لوگوں کی زمینوں پر اخروٹ کے درخت بہت ہیں اور یہ لوگ ان سے معمولی کھانے پینے کی چیزوں کے بدلے درخت گروی رکھوالیتے تھے۔ اخروٹ کا ایک بڑا درخت سات آٹھ من پیداوار دیتا ہے اور چالیس سے پچاس ہزار روپے اس کی مالیت بنتی ہے۔
عزیز احمد نے بتایا کہ ایم پی بھنڈارا نے حکومت سے بات کرکے کیلاش والوں کو پیسے دلوائے کہ اپنے گروی درخت واپس لے سکیں، لیکن یہ لوگ رقم کھا گئے اور درخت واپس نہیں لیے۔ اتنی دیر میں ڈرائیور بزرگ گل عرف عثمان نے گاڑی سڑک کنارے روکی اور کہا یہ اخروٹ کا درخت ہے اور ابھی اس میں اخروٹ لگ رہے ہیں۔
دریا کے کنارے پر پیچ، کچے اور خطرناک راستے سے گزرتے ہوئے ایک پل پار کیا تو دائیں جانب رمبور کی طرف راستہ مڑا اور بائیں جانب بمبوریت کی طرف راستہ جارہا تھا۔ درمیان میں پولیس چوکی تھی جہاں سپاہیوں نے ٹیکس مانگا۔ غیر ملکیوں کے لیے فی شخص سو روپے اور غیر چترالی پاکستانیوں کے لیے بیس روپے ضلع ٹیکس ہے۔
ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد رمبور وادی میں میلے کی جگہ کے قریب پہنچے، گاڑی کھڑی کرکے پہاڑ کی چوٹی پر مقررہ جگہ پر دو بار سانس پھولنے کی وجہ سے کچھ رکنا پڑا۔ اوپر پہنچے تو رنگ برنگے کپڑے اور موتیوں کی مالائیں گلے میں لیے بچیاں، لڑکیاں اور بوڑھیاں اپنی اپنی دوست اور ہمرازوں کے ساتھ گلے میں بانہیں ڈالے گروپ ڈانس کرتی نظر آئیں۔ درمیان میں دو ڈھول والے ڈھول بجارہے تھے اور ان کے ساتھ کھڑے بزرگ ’ہا ہی میں ما نی سا کا پا جا‘ کی آوازیں نکالتے سنائی دیے۔ کچھ کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں بھی تھیں اور کچھ نوجوان انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹیاں بجاتے رہے۔
منیر کالاش نے بتایا کہ تینوں وادیوں میں تیرہ سے سولہ مئی تک یہ موسم بہار کی آمد کا میلہ لگتا ہے، جسے چلم جوشٹ کہتے ہیں۔ اس موقع پر سب لوگ دودھ اکٹھا کرتے ہیں اور بعد میں مل کر پیتے ہیں، اس کا پنیر بناتے ہیں اور وہ بھی مل بانٹ کر کھاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس موقع پر دعائیں کرتے ہیں ’اے اللہ آپ کا شکریہ کہ پھل اگنا شروع ہوگئے ہیں، فصل کاشت ہوچکی ہے اور موسم خوشگوار ہونا شروع ہوگیا ہے‘۔

آیون کے لوگوں نے کالاش قبیلے کے لوگوں کو برسوں تک لوٹا
اس دوران گائیڈ نے رقص والی جگہ سے بھی اونچائی پر واقع پہاڑی جہاں چار دیواری بھی نظر آئی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ان کی عبادت گاہ ہے اور وہاں بکرے کاٹنے کے بعد وہاں لکڑی کی مورتیوں پر خون چھڑکتے ہیں۔ وہاں کسی غیر کیلاش کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔
اچانک میری نظر ایک نوجوان کیلاش پر پڑی وہ ہاتھوں پر مہندی لگائے، چترالی ٹوپی پہنے رقص کرنے والی لڑکیوں کو گھور رہا تھا۔ ان تک پہنچنے سے پہلے ہی دو لڑکیاں ان سے بات کرنا شروع ہوئیں اور گائیڈ نے کہا کہ ایسے موقع پر لڑکیاں اور لڑکے ایک دوسرے کو شادی کی پیشکش کرتے ہیں اور رضامندی کی صورت میں وہ دونوں بھاگ جاتے ہیں۔ میں نے اس لڑکے سے بات کرنا چاہی لیکن وہ اردو نہیں جانتا تھا اور وہاں تعینات پولیس والے کو مترجم بنا کر جب ان سے شادی کے متعلق پوچھا تو وہ شرما کر دوسری طرف نکل گیا۔
کئی کیلاش لڑکیاں فوٹو بناتے وقت مسکرا کر چہرہ چھپالیتیں یا منہ پھیر لیتیں۔ ایک بیس سالہ متا گل نے بتایا کہ وہ ماحولیات میں ماسٹرز کرنا چاہتی ہیں اور اپنے خطے اور قبیلے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں۔ متا گل کچھ عرصہ اسلام آباد میں رہی ہیں اور آج کل چترال سےگریجویشن کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کل کالاش لڑکیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان تو بڑھ رہا ہے لیکن زیادہ تر میٹرک کے بعد شادی کے چکر میں پڑ جاتی ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں فی الحال شادی کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتی۔
اس دوران ایک جاپانی عورت پر نظر پڑی وہ بھی کیلاش لباس پہنے میلے میں شریک تھیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کا نام اکیکو واڈا ہے اور وہ اکیس برس سے رمبور وادی میں رہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سڑک کے کنارے چین سے ہوتے ہوئے یورپ جانے کی خواہاں تھیں لیکن جب یہاں پہنچیں تو وہ کیلاش لوگوں سے ملنے کے بعد ان سے بہت متاثر ہوئیں۔ ’میں نے کیلاش کا بہت غور اور قریب سے مطالعہ کیا ہے اور ان کی روایات اور زندگی کے بارے میں کتاب بھی لکھی ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ وہ رمبور میں دریا کے کنارے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتی ہیں۔ ’میری تحقیق کے مطابق کالاش قبیلے کے لوگ سکندر اعظم کے ساتھ نہیں آئے تھے اور ان کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی ہوا لیکن کالاش کا تعلق یونان سے ثابت نہیں ہوا‘۔ اکیکو واڈا کے متلعق ایک مقامی کیلاش نے بتایا کہ انہوں نے ایک مقامی شخص سے شادی کی ہے لیکن ان کی اولاد نہیں ہے۔ وہ سردیوں کے موسم میں جاپان چلی جاتی ہیں۔
لڑکیوں کے رقص کی وجہ سے اٹھنے والی دھول سے مزید بچنے کے لیے وہاں سے نکلے تو تھوڑی اترائی پر ایک مکان کے آنگن میں کھڑی دو لڑکیاں ہمیں دیکھ کر مسکراتی نظر آئیں اور انہوں نے اپنے گھر میں آنے کا اشارہ کیا اور ہم ان کی طرف چل دیے۔ (جاری ہے۔۔ مزید احوال کے لیے ملاحظہ کیجیئے گا تیسری قسط)
© MMIX