
انصاف کو بیچنے سے بہتر ہے کہ عدالتوں کی تالہ بندی کر دی جائے: چیف جسٹس
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مختلف سرکاری محکموں میں ڈیپوٹیشن پر گئے ہوئے عدلیہ کے افسران سے کہا ہے کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں اپنے محکمے میں واپس آجائیں ورنہ نہ تو وہ جج رہیں گے اور نہ وہ اُن محکموں میں رہیں گے جہاں پر ڈیپوٹیشن پر کام کررہے ہیں۔
راولپنڈی بار کی طرف سے عدلیہ بحالی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام سے لیکر متعدد بار عدلیہ پر سب خون مارا گیا جس کی وجہ سے عدلیہ اپنے پاوں پر کھڑی نہ ہوسکی۔ انہوں نے ملک کی مخلتف وکلاء بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو ایک بھرپور ادارہ بنانے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہوگا۔
افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ اب وقت تبدیل ہوگیا ہے اور اب مقدمات کے فوری فیصلے ہوں گے انہوں نے کہا کہ اب وہ وقت گئے جب مقدمات نسلوں تک چلا کرتے تھے لیکن اُن مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کو بیچنے سے بہتر ہے کہ عدالتوں کی تالہ بندی کر دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اب عدالتوں کے علاوہ وکلاء برادری پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مشکلات میں پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کریں اور انصاف کے حصول کے لیے لوگوں کی توقعات بہت بڑھ گئی ہیں۔ افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ موجود سال کو جسٹس فار آل کا سال قرار دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف سے کہا ہے کہ وہ ساہیوال میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے وکلاء کے واقعہ کا نوٹس لیں اس کے علاوہ انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی کہا ہے کہ وہ 12 مئی والے واقعہ کو دیکھیں۔
انہوں نے سوات اور دیگر علاقوں کی صورتحال کا زکر کرتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا کہ وہاں پر حالات جلد معمول پر آجائیں گے اور نقل مکانی کرنے والے خاندان اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے۔
افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ سوات اور شانگلہ کے وکلاء عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں پیش پیش تھے۔ انہوں نے راولپنڈی کے وکلاء سے کہا کہ وہ ان حالات میں ان علاقوں کے وکلاء بھائیوں کی مدد کریں۔
تقریب سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر چوہدری اعتزاز احسن اور دیگر وکلاء رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔
© MMIX