
نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد ان کا قبیلہ اپنے نئے سردار کا باضابطہ فیصلہ تاحال نہیں کرسکا
بلوچ قوم پرست رہنماء نواب اکبر بگٹی کے ایک پوتے میر عالی عرف میر ادو بگٹی نے اپنے قبیلے کے تمام رہنماؤں کا ایک جرگہ انیس مئی منگل کے روز سوئی میں طلب کیا ہے جس میں ان کے ترجمان کے مطابق بگٹی قبیلے کے نئے سربراہ کا فیصلہ کیا جائیگا۔
میر عالی بگٹی اپنے دادا کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد روپوش ہوگئے تھے اور موجودہ منتخب حکومت کی بظاہر رضامندی کے بعد تیس اپریل کو کراچی سے ایک خصوصی جہاز میں اپنے آبائی علاقے سوئی پہنچے ہیں۔
جمعرات کے روز میر عالی بگٹی کے ایک ترجمان دریان بگٹی نے بی بی سی کو سوئی سے فون پر بتایا ہے کہ انیس مئی کو طلب کیے گئے جرگے میں بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخوں کے سربراہان اور وڈیرے شامل ہونگے۔ان کے مطابق جرگے میں بگٹی قبیلے کی شاخوں پیروزانی، مسوری، کلپر، موندرانی، شمبھانی اور نوتانی کے چیف اور وڈیرے اور مقامی عمائدین شامل ہونگے۔
جرگے میں ان لوگوں کے وڈیرے بھی شریک ہونگے جو ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن کے بعد سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں دربدر ہیں۔
انیس مئی کوبگٹیوں کے جرگے میں کوئی حکومتی اہلکار یا وزیر ،مشیر شریک نہیں ہونگے کیونکہ یہ بگیٹوں کا جرگہ ہے سرکاری تقریب نہیں ہے۔
دریان بگٹی
میر عالی بگٹی کے ترجمان کےمطابق انیس مئی کو بگٹیوں کے جرگے میں کوئی حکومتی اہلکار یا وزیر مشیر شریک نہیں ہونگے کیونکہ بقول ان کے یہ بگٹیوں کا جرگہ ہے سرکاری تقریب نہیں ہے۔
میر عالی بگٹی نواب اکبر بگٹی کے سب سے بڑے صاحبزادے سلیم اکبر بگٹی کے بڑے بیٹے ہیں اور وہ سانگھڑ کے کوٹ بگٹی میں رہائش پذیر تھے مگر سوئی میں دو ہزار چھ کے فوجی آپریشن کے وقت وہ اپنے دادا کے ہمراہ پہاڑوں کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔
اپنی طویل روپوشی کے بعد سوئی واپسی پر میرعالی نے سوئی میں ہی رہائش اختیار کی ہے اور انہوں نے وہاں سے ساٹھ کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی کا تاحال دورہ نہیں کیا ہے۔ میر عالی کے ترجمان کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر کا بنگلہ قابل رہائش نہیں ہے اور میرعالی انیس مئی کے جرگے کےبعد اپنے دادا کی قبر پر جانے کا فیصلہ کریں گے۔
سوئی میں بگٹیوں کا جرگہ طلب کرنے کی اطلاعات کے بعد مقامی میڈیا میں میر عالی کے حامی دو وڈیروں کے اغواء کی خبریں بھی آئی ہیں مگر میر عالی کے ترجمان ایسی خبروں کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں۔
سابق فوجی حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں ایک فوجی آپریشن کےدوران نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد ان کا قبیلہ اپنے نئے سردار کا باضابطہ فیصلہ تاحال نہیں کرسکا ہے۔
پرویز مشرف کے دور حکومت میں ان کے حامی اور اکبر بگٹی مخالف مسوری اور کلپر بگٹیوں کو سوئی میں دوبارہ آباد کیا گیا تھا۔ انہوں نے میر احمدان بگٹی کو نیا سردار بنانے کی کوشش کی تھی مگر دونوں قبیلوں میں اختلافات کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔ ایک جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ وہ سرداری نظام کے خلاف ہیں اور کسی کو سردار نہیں مانتے۔
نواب اکبر بگٹی نے تین شادیاں کی تھیں جن میں سے ان کے چھ بیٹے ہیں ۔ان کے خاندان کے درمیان قبیلے کا نیا سربراہ مقرر کرنے پر اختلافات جاری ہیں۔ان کے ایک بیٹے طلال بگٹی پہلے ہی اپنے آپ کو بگٹیوں کا نیا سردار قرار دے چکے ہیں مگر بگٹی قبیلے میں ان کا اثر کم رہا ہے۔
© MMIX