Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 12 may, 2009, 17:54 GMT 22:54 PST

حکومتی کنٹرول ایک تہائی تک محدود

پاکستانی طالبان شمال مغربی صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے چوبیس فیصد حصے پر مکمل طور پر قابض ہو چکے ہیں جبکہ ان کے جنگجو یا حامی مزید اڑتیس فیصد علاقے میں متحرک نظر آتے ہیں۔پچھلے چند ہفتوں کی مسلسل فوجی کارروائی کے باوجود پاکستان کی حکومت اور فوج ان علاقوں سے طالبان کا قبضہ مکمل طور پرختم کرانے میں تاحال ناکام رہی ہے۔ نتیجتاً صوبائی حکومت کی عملی رٹ شمال مغربی صوبہ سرحد کے اڑتیس فیصد علاقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

نقشے کی مدد سے دیکھیے کہ کہاں طالبان قابض ہیں، کن علاقوں میں ان کا اثر بڑھ رہا ہے اور کہاں حکومتی عملداری ابھی قائم ہے

طالبان کے زیر کنٹرول ان علاقوں میں شمالی پاکستان کی بائیس فیصد آبادی بستی ہے۔ اس حساب سے طالبان صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے پینسٹھ لاکھ عوام پر حکومت کر رہے ہیں جبکہ مزید پچاس فیصد آبادی یا لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ عوام اس خوف میں رہ رہے ہیں کہ ان کا علاقہ کسی بھی وقت طالبان کی عملداری میں آ سکتا ہے۔ یوں حکومتی کنٹرول شمالی پاکستان کی صرف اٹھائیس فیصد آبادی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

بی بی سی کی ریسرچ درست نہیں: صدر آصف زرداری

صوبہ سرحد میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں سوات، بنیر، شانگلہ اور لوئر دیر شامل ہیں جب کہ قبائلی علاقوں میں اورکزئی ایجنسی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور باجوڑ اس وقت مکمل طور پر طالبان یا ان کے حلیف جنگجوؤں کے قبضے میں ہیں۔ ان تمام علاقوں میں حکومتی عملداری تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سے جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، اورکزئی ایجنسی اور باجوڑ تو سوات میں طالبان کی عملداری قائم ہونے سے پہلے ہی طالبان یا ان کے حامی جنگجوؤں کے نرغے میں آ چکے تھے

قبائلی علاقے

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سے جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، اورکزئی ایجنسی اور باجوڑ تو سوات میں طالبان کی عملداری قائم ہونے سے پہلے ہی طالبان یا ان کے حامی جنگجوؤں کے نرغے میں آ چکے تھے لیکن سوات میں طے پانے والے امن معاہدے کے چند ہی ماہ کے اندر طالبان صوبہ سرحد کے بندوبستی اضلاع شانگلہ، بونیر اور لوئر دیر پر بھی قابض ہو گئے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کسی نہ کسی حد تک اپر دیر، صوابی، مردان، پشاور، مالاکنڈ، ہنگو، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی مستقل موجودگی قائم کر لی ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگاروں کی رپورٹوں کی مدد سے تیار کردہ صوبہ سرحد کے نقشے کے مطابق مکمل حکومتی رٹ اب صوبہ سرحد کے شمالی ضلع چترال، شمال مشرقی اضلاع کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، وسطی اضلاع چارسدہ اور نوشہرہ اور جنوبی ضلع کرک تک محدود ہو چکی ہے۔

طالبان ایجنسیوں کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں

ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق قبائلی علاقوں میں مہمند، خیبر اور کرم ایسی ایجنسیاں ہیں جہاں طالبان یا ان سے منسلک جنگجوؤں کی ناصرف باقاعدہ موجودگی ہے بلکہ وہ ان ایجنسیوں کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں طالبان کنٹرول کی سب سے بڑی مثال خیبر ایجنسی میں ملتی ہے جہاں نیٹو کو رسد پہنچانے والے قافلوں پر باقاعدہ حملے ہوتے ہیں۔ ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق خیبر کے دو علاقوں باڑہ اور جمرود پر شدت پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے۔

تاہم ان تینوں ایجنسیوں میں حکومت مقامی لشکروں کے ذریعے کم از کم ایجنسی ہیڈکوارٹرز تک اپنی عملداری قائم رکھے ہوئے ہے اسی لیے انہیں ابھی ایسے علاقوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا جہاں طالبان یا ان کے حلیف جنگجو مکمل طور پر قابض ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان تینوں ایجنسیوں میں بندوبستی علاقوں کے عوام کے لیے آزادانہ رسائی اور میڈیا کے لیے آزادانہ رپورٹنگ تقریباً ناممکن ہے۔

ان تین ایجنسیوں کے برعکس باجوڑ، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان مکمل طور پر طالبان کے قبضے میں ہیں۔ پاکستانی فوج جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے سے تقریباً نکل چکی ہے جبکہ باقی علاقے پر وزیر قبائل کے طالبان کا قبضہ ہے۔ ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔

اورکزئی ایجنسی میں مقامی طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود وزیرستان میں خود کش حملہ آور تیار کرنے والے طالبان جنگجو قاری حسین کا رشتہ دار ہے۔ یہاں مقامی شیعہ اور سنی آبادی میں کشیدگی رہتی ہے جس کی وجہ سے لوئر اورکزئی میں طالبان چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی سنی آبادی کی مدد کرتے ہیں۔ اس فرقہ وارانہ کشمکش نے علاقے میں حکومتی مشینری کو بالکل بے بس کر دیا ہے۔

باجوڑ میں اکتوبر دو ہزار چھ میں ایک بڑے میزائل حملے میں اسی افراد کی ہلاکت کے صرف نو دن بعد درگئی کے فوجی تربیتی کیمپ پر حملہ کر کے طالبان نے پہلی مرتبہ پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں بڑی کارروائی کرنے کی اہلیت کا ثبوت دیا تھا۔ درگئی فوجی کیمپ پر حملے میں چالیس سے زیادہ زیر تربیت جوان ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد حکومت اور فوج نے متعدد بار مقامی جرگوں کے ذریعے باجوڑ ایجنسی کو واپس قابو میں لانے کی کوشش کی لیکن پے در پے ناکامیوں کے بعد مقامی طالبان نواز عسکریت پسندوں سے معاہدہ کر کے علاقہ چھوڑ دیا۔

باجوڑ ایجنسی پر طالبان کا جزوی راج ہے گو کچھ عرصے سے طالبان اور فوج براہ راست متصادم نہیں۔ اتمانخیل قبیلے کی مزاحمت کی وجہ سے انہیں اس علاقے میں احمایت نہیں مل سکی ہے

ہمارے نامہ نگار

اب ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق باجوڑ ایجنسی پر طالبان کا جزوی راج ہے گو کچھ عرصے سے طالبان اور فوج براہ راست متصادم نہیں۔ باجوڑ میں اتمانخیل قبیلے نے آغاز سے طالبان کی مزاحمت کی ہے لہذا اس علاقے میں ان کو حمایت نہیں مل سکی ہے۔ اس کے باوجود باجوڑ طالبان کا ایک مضبوط گڑھ ہے جہاں فوج کا عمل دخل ہونے کے باوجود طالبان اپنی کارروائیاں کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

بندوبستی علاقوں سوات، شانگلہ، بونیر اور لوئر دیر کے اضلاع پر طاءبان پچھلے چند ہفتوں میں مکمل طور پر قابض ہو گئے تھے۔ ان اضلاع میں سے گزرنے والے تمام اہم راستوں پر انہوں نے اپنا کنٹرول قائم کر لیا تھا۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ سوات کے بعد طالبان کو ان اضلاع میں اپنی عملداری قائم کرنے میں مالاکنڈ کے کمشنر سید محمد جاوید سے باقاعدہ مدد ملی جس کی وجہ سے انہیں اس عہدے سے ہٹا لیا گیا۔
تاہم پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے امریکی دورے کے ساتھ ہی شروع ہونے والے فوجی آپریشن نے طالبان کے کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ فی الحال ان علاقوں پر حکومتی رٹ مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی لیکن اگر موجودہ آپریشن کے مقاصد پورے ہو جاتے ہیں تو آنے والے ہفتوں میں یہ علاقے واپس حکومتی کنٹرول میں آسکتے ہیں۔

ان چاروں اضلاع کا کل رقبہ دس ہزار تین سو اکہتر مربع کلومیٹر بنتا ہے جبکہ یہاں کی کل آبادی لگ بھگ چوالیس لاکھ ہے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم ان اضلاع کی جغرافیائی حدود ہیں۔ لوئر دیر سوات اور قبائلی علاقوں میں پل کا کام کرتا ہے اور اس علاقے میں طالبان کی عملداری قائم ہونے سے سوات اور قبائلی علاقوں کی باجوڑ ایجنسی میں طالبان کی آمدو رفت کے لیے ایک باقاعدہ راستہ بن گیا ہے۔

اس کے علاوہ لوئر دیر پر طالبان کے قبضے کے بعد ضلع چترال کا زمینی رابطہ مکمل طور پر کٹ گیا ہے۔ سال میں سردیوں کے چھ یا سات ماہ تک تو ویسے ہی چترال کا زمینی رابطہ باقی پاکستان سے کٹا رہتا ہے۔ اب اگر حکومت لوئر دیر پر اپنی رٹ بحال نہ کر سکی تو چترال کا زمینی رابطہ ملک کے باقی حصوں سے مستقل کٹ سکتا ہے۔

طالبان ضلع صوابی میں قدم جما لیتے ہیں تو انہیں ڈیرہ اسماعیل خان اور پنجاب میں داخل ہونے کا ایک اور اہم راستہ مل جائے گا

بونیر پر طالبان کے قبضے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اگر مستقبل قریب میں طالبان ضلع صوابی میں اپنے قدم جما لیتے ہیں تو انہیں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاوہ شمال سے پنجاب میں داخل ہونے کا ایک اور اہم راستہ مل جائے گا۔

پچھلے چند ہفتوں میں طالبان کے قبضے میں آنے والے ان چاروں اضلاع کے علاوہ صوبہ سرحد کے کل چوبیس میں سے گیارہ اضلاع ایسے ہیں جہاں یا تو طالبان نے مستقل موجودگی ثابت کر دی ہے یا ان کے مقامی رابطے اس سطح پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ کسی وقت بھی ان اضلاع میں کوئی بڑی کارروائی کر سکتے ہیں۔

چھبیس ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے ان گیارہ اضلاع میں پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، ہنگو، بنوں، اپر دیر، مالاکنڈ، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک شامل ہیں۔ ان اضلاع کی سوا کروڑ آبادی گزشتہ کچھ عرصے سے طالبان کے خوف میں جی رہی ہے۔ ان تمام اضلاع میں طالبان یا ان کے حامی جنگجو موسیقی کی دکانوں پر حملے اور گاڑیوں سے زبردستی کیسٹ پلیئر اتارنے سے لے کر خود کش حملوں تک متعدد کارروائیاں کر چکے ہیں۔

ان اضلاع کا جغرافیہ یہاں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو حکومت اور فوج کے لیے مزید خطرناک بناتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے صوبہ سرحد میں مکمل حکومتی رٹ چار مختلف ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے۔ پہلا ٹکڑا وسیع و عریض شمالی ضلع چترال پر مشتمل ہے۔ چترال میں فی الحال طالبان کے ٹھکانوں کی کوئی خبر نہیں لیکن رقبے کے اعتبار سے طالبان کے زیر انتظام چاروں اضلاع کے مجموعی رقبے سے ڈیڑھ گنا بڑے چترال کا پہاڑی علاقہ مستقبل میں طالبان اور القاعدہ جنگجوؤں کے لیے دلچسپی کا علاقہ بن سکتا ہے تاہم مقامی آبادی کا پشتون نہ ہونا ان کے لیے منفی عنصر ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر طالبان صوابی کے ذریعے ایبٹ آباد اور ہری پور تک پھیل جاتے ہیں تو سرحد کی مشرقی پٹی کے اضلاع کا رابطہ باقی صوبے سے مکمل طور پر کٹ جائے گا

سرحد کے مشرقی اضلاع

دوسرا ٹکڑا صوبے کے مشرقی اضلاع کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور پر مشتمل ہے۔ حکومتی کنٹرول کی اس پٹی سے ملحقہ اضلاع سوات، شانگلہ اور بونیر طالبان کے نرغے میں ہیں اور اگر طالبان صوابی کے ذریعے ایبٹ آباد اور ہری پور تک پھیل جاتے ہیں تو اس مشرقی پٹی کا رابطہ باقی صوبے سے مکمل طور پر کٹ جائے گا۔

یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہو گا کہ صوابی طالبانیت سے گہری رغبت رکھنے والے عوام کا علاقہ ہے۔ یہاں قائم پنج پیر کے مشہور مدرسے سے مولانہ صوفی محمد اور ملا فضل اللہ سمیت کئی اہم رہنما تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ پنج پیر کو تقریباً ایک فقہ کا درجہ حاصل ہے جو طالبان کے وہابی فقہ سے قریبی مماثلت رکھتا ہے۔ گو ابھی تک یہاں طالبان طرز کی معمولی کارروائیاں ہوئی ہیں لیکن مقامی لوگ اس علاقے کو طالبانیت کا نظریاتی گڑھ بیان کرتے ہیں۔ اسلام آباد پشاور موٹروے بننے کے بعد صوابی کا اسلام آباد تک سفر بہت حد تک آسان ہو گیا ہے۔

صوبہ سرحد کا دارالحکومت پشاور، مغرب میں مہمند، خیبر اور اورکزئی ایجنسیوں میں گھرا ہوا ہے جبکہ اس کے شمال میں مردان اور چارسدہ، جنوب میں کوہاٹ اور مشرق میں مردان اور نوشہرہ کے اضلاع ہیں۔ یہاں پچھلے چند ماہ میں طالبان دیدہ دلیری سے کئی وارداتیں کر چکے ہیں جن میں سب سے معنی خیز نیٹو کو رسد پہنچانے والے ٹرکوں کے اڈوں پر حملے تھے جن میں درجنوں کی تعداد میں طالبان نے پے در پے حملے کر کے سینکڑوں ٹرکوں کو نظر آتش کر دیا تھا۔

پشاور میں ڈاکٹروں تک کو دھمکیاں مل رہی ہیں کہ کوئی مرد ڈاکٹر کسی عورت کا علاج نہ کرے اور پینٹ شرٹ پہن کر نہ آئے

تازہ اطلاعات

مردان میں موسیقی کی دکانوں پر حملے معمول کی کارروائی بن چکے ہیں جبکہ چارسدہ میں سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ پر قاتلانہ حملے سمیت کئی وارداتیں ہو چکی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پشاور میں ڈاکٹروں تک کو دھمکیاں مل رہی ہیں کہ کوئی مرد ڈاکٹر کسی عورت کا علاج نہ کرے اور پینٹ شرٹ پہن کر نہ آئے۔ طالبان کے پھیلاؤ سے متعلق اب تک ماضی کا تجربہ یہی رہا ہے کہ وہ جس علاقے کو بھی نشانہ بناتے ہیں وہاں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لیے اسی طرح کے حربوں سے اپنی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہیں۔

جنوبی اضلاع بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی ایک عرصے سے طالبان کی پر تشدد کاروائیوں کا شکار ہیں۔ بنوں بندوبستی اضلاع میں وہ واحد ضلع ہے جہاں امریکی ڈرون باقاعدہ حملہ کر چکے ہیں۔ اسی طرح ٹانک میں بھی طالبان مسلح گشت کر چکے ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت یہاں بڑی تعداد میں جنوبی وزیرستان کے پناہ گزین آباد ہونے کی وجہ سے طالبان کو ان علاقوں میں آزادانہ رسائی حاصل ہے۔

ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کا شمار مستقبل قریب کے خطرناک ترین اضلاع میں کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں طالبان مقامی فرقہ پرست تنظیموں کی باقاعدہ حمایت کرتے ہیں۔ سال بھر کے عرصے میں یہاں فرقہ وارانہ وارداتوں اور خود کش حملوں کے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں پولیس سٹیشنوں اور دیگر حکومتی اہلکاروں پر حملے بھی شامل ہیں۔

ان اضلاع میں جاری پرتشدد فرقہ واریت میں طالبان کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نے پنجاب کے اضلاع کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر آنے والے وقتوں میں طالبان نے باقاعدہ طور سے پرتشدد فرقہ پرستی میں ملوث ہونے کی پالیسی اپنا لی تو جنوبی پنجاب کے نو بڑے اضلاع ان کے اثر و رسوخ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

صحافیوں کے نام

پنجاب کے ان اضلاع میں چکوال، میانوالی، بھکر، جھنگ، مظفرگڑھ، بہاولنگر، بہاولپور، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان شامل ہیں۔ صوبہ پنجاب کے سینتالیس فیصد یا تقریباً نصف رقبے پر پھیلے ہوئے ان اضلاع میں سوا دو کروڑ لوگ بستے ہیں جو پنجاب کی بائیس فیصد آبادی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں ان تمام اضلاع سے کسی نہ کسی نوعیت کی 'طالبان طرز' کی کارروائی کی اطلاعات آ چکی ہیں۔

بااثر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب کی اہلیہ ام حسان پچھلے چند ماہ میں پنجاب کے جنوبی اضلاع کے بیس سے زیادہ دورے کر چکی ہے جن کے دوران انہوں نے کئی جلسوں سے بھی خطاب کیا ہے۔ مغربی مبصرین کی رائے میں ان علاقوں کے مدرسے میں نوجوانوں کی ایک ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو طالبان سے انتہائی نظریاتی مطابقت رکھتی ہے اور جسے وقت آنے پر ریاست کے خلاف صف آراء ہونے میں تامل نہ ہو گا۔

کمشنر مالاکنڈ

پاکستانی مبصرین بارہا اس خطرے کی جانب اشارہ کر چکے ہیں کہ حکومت وقتاً فوقتاً اندرونی اور بیرونی دباؤ کے پیش نظر صوبہ سرحد کے طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے پر تو آمادہ ہو جاتی ہے لیکن طالبان کی اس نظریاتی پیش قدمی کو روکنے کی ضرورت سے قطعی بے بہرہ نظر آتی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔