Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 13 may, 2009, 22:45 GMT 03:45 PST

بارہ مئی: کوئٹہ میں احتجاجی جلسہ

جلسہ

پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے کوئٹہ میں بارہ مئی 2007 کے واقعات کے خلاف احتجاجی جلسہ کیا

پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے دو سال قبل بارہ مئی اور گزشتہ ماہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے پشتونوں کے مبینہ قتل اور کروڑوں روپے کے املاک کو جلانے اور لوٹنے کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث تنظیم کو دہشت گرد قرار دے کر اس پرپابندی عائدکی جائے اور سپریم کورٹ ان واقعات کا از خود نوٹس لے اور تحقیقاتی کمیشن قائم کرکے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے۔

کراچی میں عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے دوران درجنوں پشتونوں کی ہلاکت کی دوسری برسی کے موقع پر منگل کو ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے کہا کہ بلوچ پشتون اور سندھی پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے لیکن کچھ ایسی قوتیں جو ایم کیو ایم کی شکل میں موجود ہیں ’جن کو خفیہ ایجنسیوں اور اسٹیبشلمنٹ کی زبردست مالی اور اخلاقی حمایت حاصل ہے‘ اور بقول ان کے یہ دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اس موقع پر مقررین نے کہا کہ کراچی شہر سندھی، بلوچ اور پشتون اقوام کا مشترکہ گھر ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کہ قیام پاکستان کے بعد’لکھنؤ اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں‘ سے آنے والے مہاجروں نے کراچی پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ایم کیو ایم کا خواب ہے کہ ’پاکستان کے اندر جناح پور بنایا جائے اور اس خاطر وہ بلوچوں، پشتونوں اور سندھیوں کو قتل یا آپس میں لڑا کر بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔‘

جلسہ سے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ نے کراچی میں بارہ مئی دو ہزار سات کو ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم کراچی میں پشتونوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور ان کے قتل عام کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں بلوچ اور پشتونوں کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے کی ایک منظم سازش کی جا رہی ہے لیکن بقول ان کے بلوچ پشتون اقوام ہزاروں سال سے ایک دوسرے کے بہترین ہمسائیہ رہے ہیں اور وہ بلوچ قوم کی جانب سے یقین دلاتے ہیں کہ کوئٹہ سمیت کسی بھی علاقے میں پشتونوں کے خلاف کسی قسم کا عمل نہیں کیا جائےگا بلکہ وہ غیروں کی جانب سے کی گئی زیادتیوں کا مل کر دفاع کرینگے۔انہوں نےبلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران ہزاروں لوگ کے لاپتہ ہونے کی بھی بات کی اور الزام لگایا کہ صوبے کے ’ساحل ووسائل کو لوٹنے کے پروگرام پر عملدرآمد جاری ہے‘۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ اور ساحلی شاہراہ کو ’مہاجروں‘ کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ بلوچ قوم کو نیست و نابو د کیا جاسکے۔ حبیب جالب بلوچ نے کہا کہ جس طرح کالا باغ ڈیم پشتونوں کی تباہی و بربادی کا منصوبہ ہے اسی طرح گوادر پورٹ بھی بلوچوں کی تباہی و بربادری کا منصوبہ ہے جسے بلوچ قوم نے مسترد کیا ہے۔

کوئٹہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام سینکڑوں کارکنوں نے بارہ مئی کے پر تشدد واقعات کے خلاف منگل کوصوبائی سیکرٹریٹ باچاخان سنٹر سے احتجاجی ریلی نکالی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے پہنچی جہاں احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔

منگل کو بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کراچی میں دو سال پہلے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے کہا کہ بارہ مئی کو کراچی میں آزاد عدلیہ کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے والے سول سوسائٹی کے لوگوں اور وکلاء پر ایک فاشِسٹ تنظیم کی طرف سے گولیاں برسائی گئیں اور درجنوں لوگوں کو ہلاک کیاگیا۔ علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ ’ہم آزاد عدلیہ کے ان مجاہدوں کو نہیں بھول سکتے جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانہ پیش کر کے ملک کو ایک ڈکٹیٹر سے نجات دلائی اور حقیقی اور آزاد عدلیہ کو بحال کیا جسے اب ملک کے غریب عوام کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خاتمے میں مدد ملے گی اور اب آزاد عدلیہ کو عوام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ بلوچ نے اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سے اس واقعہ کی دوبارہ انکوائری کا مطالبہ کیا ۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔