
شدت پسندوں پر عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی سامنے آچکا ہے
حکومت پاکستان کے حکم پر سکیورٹی فورسز صوبہ سرحد کے تین اضلاع میں شدت پسندوں کے خلاف نبرد آزماں ہیں لیکن اس لڑائی میں عام شہریوں کو اپنی جان کی صورت میں کتنا نقصان اٹھاناپڑ رہا ہے اس بارے میں صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔
لاکھوں متاثرین کی نقل مکانی اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی بحران پر اس وقت تمام تر میڈیا اور امدادی تنظیموں کی توجہ مرکوز ہے لیکن میدان جنگ بنے ان تین اضلاع میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں نہ تو کوئی اعداد و شمار دستیاب ہیں نہ ہی کوئی بات ہو رہی ہے۔
مشیر داخلہ رحمان ملک نے تازہ اعدادوشمار دیتے ہوئے ہلاک ہونے والے مزاحمت کاروں کی تعداد سات سو بتائی ہے لیکن ایک عسکری تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس میں ایک اندازے کے مطابق تیس فیصد عام شہری ہوسکتے ہیں۔
سابق سیکرٹری فاٹا برگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ کے مطابق سات سو میں سے ستر فیصد طالبان اور تیس فیصد عام شہری ہوسکتے ہیں لیکن ابھی تک فوج نے جو حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے اس کے مطابق صرف ان مقامات کو ہدف بنایا جا رہا ہے جہاں صرف طالبان کی موجودگی کی تصدیق ہو۔
مشیر داخلہ رحمان ملک نے تازہ اعدادوشمار دیتے ہوئے ہلاک ہونے والے مزاحمت کاروں کی تعداد سات سو بتائی ہے لیکن ایک عسکری تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس میں ایک اندازے کے مطابق تیس فیصد عام شہری ہوسکتے ہیں۔
تیس فیصد عام شہری
'ان اہداف کو نہیں چھیڑا جا رہا ہے جہاں مقامی آبادی اور طالبان مکس ہیں۔ یہ علاقے صرف زمینی کارروائی کے ذریعے کی صاف کیے جاسکیں گے لیکن ابھی تک لوگ سمجھ رہے ہیں کہ عام شہریوں کی ہلاکتیں قابل ذکر نہیں ہیں۔ اسی لیے ابھی تک کولیٹرل ڈیمج کم سے کم ہے‘۔
سوات میں تازہ کارروائی کے فوراً بعد اطلاعات تھیں کہ چوبیس بچے اور عورتیں ان بےگناہ شہریوں میں شامل تھے جو گولیوں کے تبادلے یا گولہ باری کے نظر ہوئے لیکن اس کے بعد بڑی تعداد میں متاثرین کی جن میں صحافی بھی شامل تھے نقل مکانی سے جنگ زدہ علاقے سے معلومات کی آمد تقریباً بند ہوگئی ہے۔ اب میڈیا بھی فریقین کے دعووں پر مبنی خبریں دے رہا ہے تاہم عام شہریوں کی ہلاکتوں کی خبر سامنے نہیں آ رہی ہے۔
متاثرہ علاقے سے آنے والے صحافی اور عام شہری بھی ہلاکتوں کے بارے میں بات کرنے سے کترا رہے ہیں۔
جنگ زدہ علاقے تک رسائی کی بندش صرف میڈیا تک محدود نہیں بلکہ امدادی تنظیمیں بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں۔ عالمی تنظیم ریڈ کراس بھی ان میں شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے تک رسائی نہ ہونے سے ان کے پاس عام شہریوں کی ہلاکت کے بارے کوئی معلومات نہیں ہیں۔
ریڈ کراس کی ترجمان ستارہ جبیں کہتی ہیں کہ فریقین کی جانب سے سکیورٹی ضمانت ملنے کے بعد ہی وہ علاقے میں جاکر حقائق جاننے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ 'جب سے یہ تازہ لڑائی شروع ہوئی ہے ہم متاثرہ علاقوں میں نہیں جاسکے ہیں۔ ایک مرتبہ فریقین کی جانب سے ضمانت ملنے کے بعد وہاں جا کر صورتحال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے لیکن اس میں ملنے والے حقائق پر ہم فریقین سے بات کرتے ہیں‘۔
عام شہریوں کی ہلاکتیں محض سکیورٹی فورسز کی وجہ سے نہیں ہو رہی ہوں گی بلکہ شدت پسندوں کی جانب سے بھی مکان کا قبضہ نہ دینے پر قتل کرنے کی افواہیں گردش میں ہیں۔ فوجی اہلکاروں کی جانب سے شدت پسندوں پر عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی سامنے آچکا ہے۔ تاہم طالبان ترجمان مسلم خان ان تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
عام شہریوں کی ہلاکتیں محض سکیورٹی فورسز کی وجہ سے نہیں ہو رہی ہوں گی بلکہ شدت پسندوں کی جانب سے بھی مکان کا قبضہ نہ دینے پر قتل کرنے کی افواہیں گردش میں ہیں
قتل کرنے کی افواہیں
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس یقین دہانی کراچکے ہیں کہ وہ عام شہریوں کی حفاظت کی خاطر تمام تر اقدامات اٹھائیں گے۔ تاہم وہ واضح کرچکے ہیں کہ اس کی سو فیصد ضمانت نہیں دے سکتے۔
'جی سو فیصد ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے کہ عام شہریوں کو جانی نقصان سے بچایا جاسکتا ہے لیکن ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے یہ نقصان کم سے کم ہو‘۔
عام شہریوں کی ہلاکت عوامی حمایت میں تبدیلی کا ایک بڑا سبب ثابت ہوسکتی ہے۔ اگرچہ اس وقت پاکستان میں اکثریت فوجی کارروائی کے حق میں ہے لیکن اگر یہ کارروائی بھی ماضی کی کارروائیوں کی طرح کوئی زیادہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہوتی ہے اور عام شہریوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے تو عوامی رائے تبدیل ہونے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
© MMIX