
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک دو اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں
فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں پندرہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جبکہ دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور چھ لاپتہ ہیں۔
تاہم طالبان کا کہنا ہے ان جھڑپوں میں پندرہ سکیورٹی اہلکار ہوئے ہیں اور سات کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب عسکریت پسندوں نے تحصیل خوئیزئی بائی زئی کے علاقے سپنکئی تنگئی میں قائم سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے دوران پندرہ طالبان مارے گئے۔ جھڑپوں میں مہمند رائفلز کے دو اہلکار بھی ہلاک اور چھ لاپتہ ہوگئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک دو اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں۔
حملہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے طالبان کے خلاف جاری آپریشن کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ اگر حکومت نے تین دن کےاندر مہمند ایجنسی میں طالبان کے خلاف کاروارئیاں بند نہیں کیں تو سکیورٹی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں قائم تمام سرکاری عمارتوں، دفاتر اور سکولوں کو نشانہ بنائیں گے۔
طالبان کمانڈر عمر خالد
مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان کے امیر کمانڈر عمر خالد نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ حملہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے طالبان کے خلاف جاری آپریشن کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے تین دن کے اندر مہمند ایجنسی میں طالبان کے خلاف کارروائیاں بند نہیں کیں تو وہ سکیورٹی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں قائم تمام سرکاری عمارتوں، دفاتر اور سکولوں کو نشانہ بنائیں گے۔
چار دن قبل بھی مہمند ایجنسی میں طالبان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین ہونے والی ایک جھڑپ میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ گزشتہ چند ماہ سے جاری ہے جس میں اب تک کئی افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان جھڑپوں میں شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب مہمند سے ملحقہ باجوڑ ایجنسی میں حکومت اور طالبان کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق زیادہ تر طالبان مہمند ایجنسی گئے ہیں۔
ان جھڑپوں کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں نے بے گھر ہوکر پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔
© MMIX