
شوریٰ کے مشورے سے مولانا صوفی محمد لوئر دیر سے بٹ خیلہ منتقل
مالاکنڈ میں سکیورٹی فورسز کی جاری کارروائی سے دوسرے مکینوں کی طرح نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد بھی اپنے علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
گزشتہ رات مولانا صوفی محمد کے گھر پر مارٹر کے گولے گرے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
نفاذ شریعت محمدی کے ترجمان مولانا عزت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا صوفی محمد نے شوریٰ کے فیصلے کے بعد اس علاقے سے نقل مکانی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں مارٹر کے کئی گولے مولانا صوفی محمد کے مکان پر گرے تھے جس سے مکان کی چار دیواری اور باورچی خانے کو نقصان پہنچا۔
امیر عزت خان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے جان بوجھ کر کارروائی نہیں کی ہے بلکہ اس علاقے سے سکیورٹی فورسز پر حملہ ہوا تھا اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے مولانا کا مکان نشانہ بنا۔ انہوں نے کہا کہ صوفی محمد اپنے اہل خانہ کے ساتھ لوئر دیر کے علاقے لعل قلعہ سے منتقل ہو کر بٹ خیلہ میں نفاذ شریعت کے مرکز امن درہ آئے ہیں۔
یاد رہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ فوجی حکام نے اتوار کے روز دعویٰ کیا تھا کہ صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں جاری آپریشن میں اب تک اکیس مبینہ خودکش حملہ آوروں سمیت اٹھاسی شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
دوسری طرف اتوار ہی کو بونیر سے ملحقہ ضلع سوات میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک بار پھر لڑکوں کے ایک ہائی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا تھا جس سے سکول کی عمارت تباہ ہوگئی۔ امن معاہدے کے بعد کسی سکول پر یہ پہلا حملہ تھا۔
دریں اثناء صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں نامعلوم افراد نے لڑکوں کے ایک ہائی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا ہے۔
گزشتہ چند ہفتے کے دوران سکولوں کے تباہ کرنے کے واقعات میں ایک بار پھر شدت آئی ہے اور بنوں میں پچھلے چار دنوں میں دو سکول تباہ کیے گئے ہیں۔
دوسری طرف ضلع لوئر دیر کے علاقے میدان سے نفاذ شریعت محمدی کے شوریٰ کے مرکزی ممبر مولانا غیاث الدین کو اپنے ساتھیوں سمیت اغواء کرنے کی اطلاع ہے۔
نفاذ شریعت کے ترجمان امیر عزت خان نے بتایا کہ ان کو عام لوگوں کے ذریعے اطلاع ملی ہے کہ غیاث الدین کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا ہے۔لیکن اپنی تنظیم کی طرف سے ان کی اغواء کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا غیاث الدین پیر کی صبح مولانا صوفی محمد کیساتھ ایک گاڑی میں بٹ خیل سے لوئر دیر کے علاقے میدان تک پہنچے تھے اور اس کےبعد وہ اپنے گاؤں بانڈئی کلے کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ بانڈئی کلے میں ٹیلی فون کےتمام لائنیں بند ہیں اور کسی سے رابط نہیں ہوسکتا۔
© MMX