
میر علی بگٹی کو گاڑیوں کے قافلے میں بگٹی ہاؤس لایا گیا
بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے پوتے میر علی بگٹی تین سال بعد سوئی پہنچے ہیں۔
میر علی بگٹی اور میر براہمداغ بگٹی اپنے دادا نواب اکبر بگٹی کے ہمراہ تیس دسمبر دو ہزار پانچ کو اس وقت پہاڑوں پر چلے گئے تھے جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا تھا۔
جمعرات کے روز بلوچ قوم پرست رہمنا نواب محمد اکبر بگٹی کے پوتے اپنے بھائی طالب بگٹی اور دو رشتہ داروں فہد بگٹی اور میر علی حیدر بگٹی کے ہمراہ ایک خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی سے سوئی پہنچے۔ سوئی ائر پورٹ پر اعلٰی سرکاری حکام قبائلی معتبرین اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد ان کا استقبال کیا۔ بعد میں ان رہنماؤں کو گاڑیوں کے جلوس میں بگٹی ہاؤس لے جایا گیا۔
میر علی بگٹی کی آمد پر سوئی شہر میں فوج، ایف سی اور لیویز کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے جبکہ سوئی شہر کو جہموری وطن پارٹی کے جھنڈوں اور نواب اکبر بگٹی اور میر بگٹی کی قد آور تصاویر اور بینرز سے سجایا گیا تھا۔
جمعرات کو نواب میر علی بگٹی کی آمد کے موقع پر پہلی بار بگٹی ہاؤس کھولا گیا جو تین سال پہلے فوج آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے اپنے کنڑول میں لے لیا تھا۔
واضع رہے کہ میر علی بگٹی اور میر براہمداغ بگٹی سترہ دسمبر دو ہزار پانچ کو سابق صدر جنرل مشرف کے دورہ ِحکومت میں بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد تیس دسمبر دو ہزار پانچ کو اپنے دادا نواب اکبر بگٹی کےہمراہ ڈیرہ بگٹی میں اپنا قلعہ چھوڑ کر فوجی آپریشن کا مقابلہ کرنے کے لیے پہاڑوں پر چلے گئے تھے۔
فوجی آپریشن کے دوران نواب اکبر بگٹی اور میر بلاچ مری کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ بلوچ قبائل اور سکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا تھا۔
فوجی آپریشن کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ کے قریب مری اور بگٹی قبائل کے لوگ بے گھر ہو گئے تھے جو ابھی تک بلوچستان اور سندھ کے مخلتف علاقوں میں بے سرو سامانی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔
دوسری جانب نواب اکبر بگٹی کے دوسرے پوتے میر براہمداغ بگٹی ابھی تک بلوچستان کے پہاڑوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف بر سرپیکار ہیں۔ براہمداغ کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل صوبائی خودمحتاری میں نہیں بلکہ بلوچستان کی آزادی میں ہے۔
© MMIX