
کراچی میں کئی بسوں کو نذر آتش کر دیا گیا
کراچی میں بدھ کی شام شروع ہونے والے ہنگاموں اور فائرنگ کے واقعات کے بعد جمعرات کو حالات قدرے بہتر ہیں اور شہر میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے پولیس اور رینجرز کا گشت جاری ہے۔ تاہم چار بڑے ہسپتالوں میں لائے جانے والے شدید زخمیوں میں سے کئی جانبر نہ ہو سکے جس سے مرنے والوں کی تعداد بتیس ہوگئی ہے۔
ایڈینشل پولیس سرجن لیاقت میمن نے جمعرات کی صبح ہلاک ہونے والوں کی تعداد بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز کے ہنگاموں میں زخمی ہونے والے افراد کو شہر کے چار بڑے ہپستالوں میں لایا گیا تھا۔ اُن میں سے کئی زخیوں کی حالت تشویش ناک تھی اور ان میں کچھ زخموں کی تاب نہ لاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح مرنے والوں کی تعداد بتیس ہو گئی ہے۔
لیاقت میمن نے کہا کہ ان چار ہپستالوں میں پچاس کے قریب افراد زیرِ علاج ہیں اور ان میں سے کئی اب بھی خطرے سے باہر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندیشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب شہر کے دو بڑے ہسپتالوں یعنی جناح ہسپتال اور عباسی شہید ہسپتال کے مطابق چوبیس افراد گولی لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں سے بیشتر کی لاشیں ان کے ورثاء کے حوالے کردی گئیں ہیں۔
بعض علاقوں سے رات گئے آتشزدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ فائربریگیڈ کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران سولہ گاڑیاں، بیس دکانیں، اور آٹھ ہوٹلوں کو نذر آتش کیا گیا۔
شہر میں ہنگامہ آرائی کے باعث کل رات گئے حکومت نے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کردیا تھا اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کے سلسلے میں ہونے والے پرچے کو بھی ملتوی کردیا گیا۔
حکومت سندھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شرپسندوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ شرپسندوں کو گرفتار کیا جائے اور اگر وہ قانون نافذ کرنے والوں پر فائرنگ کریں تو انہیں گولی ماردی جائے۔
شہر میں بدھ کی صبح بسیں، منی بسیں، رکشہ، اور ٹیکسیاں بہت کم تعداد میں نظر آرہی تھیں جس کی وجہ سے لوگوں کو دفاتر اور اپنے کام پر جانے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کم ہونے کی وجہ سے دفاتر اور فیکٹریوں میں حاضری معمول سے بہت کم ہے جبکہ شہر میں بدستوں خوف کی فضاء موجود ہے۔
بدھ کی صبح متاثرہ علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے اور وہاں بازار اور دکانیں مکمل طور پر بند ہیں۔ دوسری جانب ایسے علاقے جہاں نسبتاً حالات بہتر ہیں، وہاں بھی بیشتر بازار اور دکانیں بند ہیں۔
شہر میں دہشت گردی کے واقعات اور بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے جمعرات کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا، متحدہ قومی مومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء شرکت کریں گے اور شہر میں امن وامان کو یقینی بنانے کے لئے تجاویز دیں گے۔
ادھر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں پرتشدد واقعات کا سخت نوٹس لیا ہے اور صوبائی حکومت کو امن وامان کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے کراچی کے پر تشدد واقعات میں قیمتی جانوں کےزیاں کے متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ان واقعات میں ملوث لینڈ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
© MMIX