Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 29 april, 2009, 12:43 GMT 17:43 PST

سوائین فلو: ائر پورٹس پر سکریننگ

متاثرہ ممالک سے آنے والے کسی مسافر کے ذریعے اس کی آمد کا زیادہ خدشہ ہے: ڈی جی ہیلتھ

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک فی الحال سوائین فلو نامی بیماری سے پاک ہے تاہم اس سے متاثرہ علاقوں میکسیکو اور شمالی امریکہ سے آنے والے مسافروں کی ہوائی اڈوں پر سکریننگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

ڈایکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر رشید جمعہ نے بدھ کے روز ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ اگرچہ پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں سوائین فلو (ایچ ون این ون) کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے تاہم حفاظتی اقدامات کے پیش نظر تمام ہوائی اڈوں پر آنے والے مسافروں کی سکریننگ کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ڈایکٹر جنرل ہیلتھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ابھی تک اس بیماری کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے لیکن وہ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہیں کہ ایسا ہوسکتا ہے۔ ’متاثرہ ممالک سے آنے والے کسی مسافر کے ذریعے اس کی آمد کا زیادہ خدشہ ہے جس کے لیے ہوائی اڈوں پر خصوصی انتظامات کر دیئے گئے ہیں۔‘

حکام میکسیکو، سپین اور شمالی امریکہ پر زیادہ نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر جمعہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے فضائی کمپنیوں سے بھی کہا ہے کہ وہ انہیں ان علاقوں سے آنے والے مسافروں کے بارے میں مطلع کریں۔ میکسیکو سے براہ راست پاکستان کوئی پرواز نہیں ہے لیکن مسافر دوسرے شہروں کے راستے وہاں سے آسکتے ہیں۔ لہٰذا ان کی نشاندہی ضروری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ طیاروں کے عملے سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مسافروں میں فلو کے آثار پر نظر رکھیں اور متعلقہ حکام کو اس سے آگاہ کریں۔ اس کے علاوہ سمندری اور زمینی راستوں سے آنے والے افراد پر بھی نظر رکھنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان طلبہ کے والدین سے درخواست کریں کہ جن میں فلو کے آثار ہوں وہ سکول نہ آئیں۔ ہسپتالوں کے عملے سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ منہ پر ماسک لگائیں۔

تاہم ڈاکٹر جمہ نے تسلیم کیا کہ سوائین فلو سے ایسے متاثرہ افراد پاکستان آسکتے ہیں جن میں آمد کے وقت اس کے آثار نہ ہوں لیکن بعد میں بیماری سامنے آ جائے۔ لیکن ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں اس بیماری کے آنے کا خطرہ کم ہے۔ ’جہاں یہ پھوٹا ہے وہاں سؤروں کی افزائش زیادہ ہے۔ ہمارے یہاں یہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے بتایا مشتبہ پروازوں کی سکریننگ کے لیے اضافی طبی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

طبی ماہرین کے خیال میں یہ بیماری کوئی اتنی زیادہ خطرناک نہیں ہے تاہم اس کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو اس کی باآسانی پھیلنے کی صلاحیت ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔