
فائرنگ کے واقعات کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگامہ پھوٹ پڑے اور گاڑیوں او بسوں کو نذر آتش کیا گیا
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مختلف علاقوں میں بدھ کو فائرنگ کے واقعات میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
حکومتی اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومینٹ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں اس کے تین کارکن بھی شامل ہیں۔
تشدد کے ان واقعات کے بعد شہر میں سخت خوف و ہراس کی فضاء ہے اور عام حالات میں رات دیر تک کھلے رہنے والے بازار، کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہوگئی ہیں۔
پولیس اور رینجرز کے حکام کے مطابق تشدد کا پہلا واقعہ بدھ کی سہ پہر کراچی کے نواحی علاقے نارتھ کراچی میں واقع زرینہ کالونی میں پیش آیا جس میں مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد شاہد اور محمود خلیل کے نام سے ہوئی۔ متحدہ قومی موومینٹ کا کہنا ہے کہ یہ دونوں اس کے کارکن تھے۔
رینجرز کے ترجمان میجر اورنگزیب نے بتایا کہ واقعے کے بعد رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور آبادی کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی لی۔
ترجمان کے مطابق مسلح افراد کی فائرنگ سے رینجرز کا ایک اہلکار اور دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے جبکہ تین گھنٹے تک جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے دوران پچیس مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن کے قبضے سے بھاری اسلحہ بھی ملا ہے۔
اس واقعے کے بعد نارتھ کراچی، نیو کراچی، ناگن چورنگی، سخی حسن، خواجہ اجمیر نگری، حیدری اور شاہ فیصل کالونی سمیت دوسرے علاقوں میں بھی ہنگامے پھوٹ پڑے۔
حکام کے مطابق تشدد کے ان واقعات میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور دو درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ کراچی کے دو بڑے ہسپتالوں عباسی شہید ہسپتال اور جناح ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ وہاں اکیس لاشیں لائی گئی ہیں جنہیں گولیاں لگی ہوئی ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں ایک سات سالہ بچہ سانول بھی شامل ہے۔
ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ شاہ فیصل کالونی میں بھی اس کے ایک اور کارکن دین محمد کو گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا ہے۔
اسی دوران مختلف علاقوں میں ایک درجن کے قریب گاڑیاں نذر آتش کردی گئی ہیں۔
تشدد کی اس لہر کی وجوہات جاننے کے لیے صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا، آئی جی پولیس سندھ اور کراچی پولیس کے سربراہ سمیت دوسرے حکام سے رابطہ کی کوشش کی گئی لیکن بات نہیں ہوسکی۔
البتہ پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر راشد ربانی سے بات ہوئی جو صوبائی حکومت میں شامل جماعتوں کی کور کمیٹی کے رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں وہ عناصر ملوث ہیں جو حکومتی اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ راشد ربانی کا کہنا تھا ’ان واقعات کے پیچھے لینڈ مافیا ہوسکتی ہے، منشیات فروش بھی ہوسکتے ہیں اور جرائم پیشہ افراد بھی ہوسکتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں کہ جو باہر سے آکر یہاں کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ جو صوبے کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتے جو صوبے میں استحکام نہیں دیکھنا چاہتے۔‘
ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی اور صوبائی وزیر فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں وہی جرائم پیشہ عناصر ملوث ہیں جن کے تانے بانے شدت پسند عناصر سے ملتے ہیں۔’شہر میں قبضہ مافیا، جرائم پیشہ گروہ خواہ وہ اسلحہ کی تجارت کرتے ہوں یا منشیات کی۔ ان سب کا ایک گٹھ جوڑ ہے اور بدقسمتی سے یہ جو نام نہاد جہادی عناصر ہیں ان کی بھی کہیں نہ کہیں ان کو حمایت حاصل ہے۔ اور ہمارے خدشات تھے کہ یہ لوگ بوجوہ شہر کے معمولات کو متاثر کرکے شہر کو لسانی فسادات کی آگ میں دھکیل کر باقی ملک کی طرح اس کے بھی حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم بار بار حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کراتے رہے تھے۔‘
لیکن سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم تو خود مخلوط حکومت کا حصہ ہے تو پھر وہ خود کیسے شکایت کنندہ بن سکتی ہے؟اس سوال پر فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ’دیکھئے حکومت میں جو ہمارا حصہ ہے وہ ہمارے بھی علم میں ہے اور آپ کے علم میں بھی ہے۔ ہم نے وزیر اعلی اور وزیر داخلہ دونوں سے یہ گذارش کی ہے کہ براہ مہربانی تمام کے تمام سرکاری وسائل بروئے کار لائے جائیں اور نہ صرف یہ جو تباہی ہونا شروع ہوئی ہے اس کو روکا جائے بلکہ جو لوگ بھی اسکے پیچھے ہیں ان کو بے نقاب کیا جائے۔‘
فیصل سبزواری نے کہا کہ گورنر سندھ نے اس ضمن میں ایکشن لیا ہے اور رینجرز کو بھی ہدایات دی ہیں جس کے بعد رینجرز کئی علاقوں میں پہنچی ہے۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری جانفشانی کے ساتھ اس آگ کو بڑھنے سے روکیں گے۔
شہر میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے اور رات گیارہ بجے تک تشدد کے واقعات کی اطلاعات موصول ہورہی تھیں۔
© MMIX