Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 29 april, 2009, 12:57 GMT 17:57 PST

یرغمالی اہلکاروں کی رہائی

طالبان نے مزید دو پولیس چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے

صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے پیر بابا پولیس سٹیشن پر قبضہ کے بعد اسے آگ لگادی ہے جبکہ تھانے میں موجود فرنٹیئر کور اور پولیس کے ستر اہلکاروں کو چند گھنٹے یرغمال بنانے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

طالبان نے بونیر میں واقع پیر بابا کے مزار کے علاوہ بونیر اور سوات سرحد پر واقع ان دو چوکیوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے جنہیں پولیس اہلکاروں نے خالی کر دیا تھا۔

بونیر کے ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ منگل کی رات طالبان نے پیر بابا پولیس سٹیشن پر قبضہ کرنے بعد اسے آگ لگا دی اور پیر بابا مزار پر بھی ایک بار پھر قبضہ کر لیا۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان نے تھانے میں موجود فرنٹیئر کور اور پولیس کے سّتر اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا تاہم بعدازاں ایک معاہدے کے بعد تمام اہلکاروں کو چھوڑ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آتشزدگی سے تھانے کا ریکارڈ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیر بابا مزار اور آس پاس کے علاقوں میں بھاری اسلحے سے لیس طالبان گشت کر رہے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان نے بونیر اور سوات کے سرحد پر واقع دو علاقوں امبیلا اور کینگر گلی میں واقع دو اور پولیس چوکیوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ پولیس نے یہ چوکیاں منگل کی رات خالی کردی تھی۔ بونیر کے ایک سرکاری اہلکار نے چوکیاں خالی کرنے کی تصدیق کی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے راج گلی، بلو خان اور بگھڑا پہاڑوں پر مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں ہلاکتوں کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔