Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 29 april, 2009, 14:41 GMT 19:41 PST

بونیرمیں آپریشن جاری، پچاس طالبان ہلاک

فوج کے ترجمان جنرل اطہر عباس

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بدھ کو نیوز بریفنگ میں بونیر آپریشن کی تفصیل بتائی

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں بدھ کو پچاس کے قریب طالبان شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور ان کے دو بارود کے ڈپو بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

بدھ کی شام کو راولپنڈی میں نیوز بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ بونیر کے صدر مقام ڈگر میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے چھاتہ بردار فوج کے دستے اتارے گئے ہیں، جس میں کمانڈوز بھی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق شدت پسندوں سے جھڑپوں میں ایک سپاہی ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق بونیر کے ضلعی رابطہ افسر کو بھی ڈگر میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچایا گیا تاکہ وہ انتظام سنبھال سکیں اور فرنٹیئر کور کے سربراہ نے بھی ڈگر کا دورہ کیا ہے۔ فوجی ترجمان نے بتایا کہ ڈگر پر سیکورٹی فورسز کا مکمل کنٹرول ہے اور سیکورٹی فورسز نے طالبان شدت پسندوں کو گھیر لیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے درخواست کی کہ وہ آپریشنل علاقے کے متعلق ایسی معلومات ظاہر کرنے سے گریز کریں جس سے شدت پسندوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

انہوں نے نقشے کی مدد سے بتایا کہ امبیلہ کے پہاڑی مقام سے شدت پسند سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کراکر، سلطان واس اور نوا گئی تھانوں کی حدود اور پیر بابا کے علاقے پر اب بھی طالبان کا قبضہ ہے۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے درخواست کی کہ وہ آپریشنل علاقے کے متعلق ایسی معلومات ظاہر کرنے سے گریز کریں جس سے شدت پسندوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

انہوں نے اس موقع پر دو مبینہ خود کش بمباروں کے ویڈیو انٹرویو بھی سنائے جس میں سولہ اور اٹھارہ سال کے دو نوجوان کہہ رہے ہیں کہ انہیں جہاد کے لیے ورغلایا گیا اور خود کش بمبار بنانے کے لیے میران شاہ لے جایا گیا۔

فوجی ترجمان نے بتایا کہ امید ہے کہ ایک ہفتہ کے اندر آپریشن مکمل ہوجائے گا اور اس دوران شدت پسندوں کو ماردیا جائے گا یا پھر بھگادیا جائے گا۔

امبیلہ کے پہاڑی مقام سے شدت پسند سخت مزاحمت کر رہے ہیں

فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوات میں حکومت کے مطابق اب بھی امن معاہدہ برقرار ہے۔ جب ان سے پوچھا کہ پچاس شدت پسندوں کے مارنے کا دعویُ کس بنیاد پر کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک محتاط اندازے کی بنا پر کیا گیا ہے اور اُسے بالکل درست نہیں کہا جاسکتا۔

بونیر کے ایک صحافی کے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ہاتھوں غائب کیے جانے پر انہوں نے کہا کہ متعلقہ صحافی نے اہم آپریشنل معلومات شائع کی جس سے شدت پسندوں کو فائدہ ہوا۔ ان کے مطابق انہیں پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

بونیر میں الجزیرہ کے نمائندے عبدالرحمٰن مطر کے زخمی ہونے کے متعلق فوجی ترجمان نے بتایا کہ وہ سیکورٹی فورسز اور طالبان شدت پسندوں کے درمیاں ہونے والی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوئے ہیں اور اب انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے بتایا کہ فوج کے پاس بڑی رینج والے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کی فریکوئنسی منجمند کرنے کے آلات ہیں لیکن چھوٹی رینج والے جیمرز ابھی نہیں ہیں اور کچھ دنوں میں مل جائیں گے۔ ان کے بقول مولانا فضل اللہ آج کل چھوٹی رینج والا ایف ایم استعمال کر رہا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔