آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 29 april, 2009, 14:48 GMT 19:48 PST

ڈاکٹرارشد وحید کی ویڈیو جاری

ارشد وحید

ارشد وحید کو سندھ ہائیکورٹ نے کورکمانڈر حملہ کیس سے بری کردیا تھا

کراچی میں پاکستانی فوج کے کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل احسن سلیم حیات پر حملے کی مبینہ منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے اور بعدازاں جنوبی وزیرستان میں گذشتہ برس سولہ مارچ کو میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹر ارشد وحید کے بارے میں مبینہ طور پر القاعدہ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے۔

پاسبانِ حرم کے نام سے اردو زبان میں یہ ویڈیو مبینہ طور پر السحاب نے جاری کی ہے جسے القاعدہ کا نشریاتی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

یو ٹیوب پر موجود اس ویڈیو کو پانچ حصوں میں دو سے تین روز قبل جاری کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو ٹیپ میں جنگجوؤں کو ایک پہاڑی علاقے میں جدید اور خود کار ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ ویڈیو میں ایک شخص کو دکھایا گیا ہے جو مختلف موقعوں پر خطاب کررہا ہے اور تاثر دیا گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر ارشد وحید ہیں۔

ویڈیو میں اردو کمنٹری بھی کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار ایک میں جب افغانستان پر حملہ ہوا تو ڈاکٹر ارشد وحید قندھار پہنچے جہاں انہوں نے علاج معالجہ میں مدد کی۔ ان کی کراچی واپسی پر مجاہدین کے نام پر لوگوں کو پکڑا جا رہا تھا لیکن ڈاکٹر ارشد وحید اپنے مشن پر قائم رہے۔ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ وہ سنہ دو ہزار چار میں کور کمانڈر پر حملے کے الزام میں گرفتار کیے گئے اور جب رہائی ملی تو واپس جہاد کی جانب گامزن ہوئے۔

کراچی میں کور کمانڈر پر حملہ کرنے کے الزام میں ڈاکٹر ارشد وحید اپنے بھائی ڈاکٹر اکمل وحید کے ساتھ گرفتار ہوئے تھے۔ بعد میں پولیس نے دہشتگردوں کو طبی اور مالی امداد فراہم کرنے کے الزام میں ان کی گرفتاری ظاہر کی تھی۔ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے اس مقدمے میں انہیں اٹھارہ سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے سزا کے خلاف دائر اپیل پر انہیں بری کردیا تھا

ویڈیو میں ایک نقاب پوش آدمی کو دکھایا گیا ہے جس کا نام ابو عمر محمود ہے اور اسے ڈاکٹر ارشد وحید کا قریبی ساتھی بتایا گیا ہے۔ ابو عمر نے ویڈیو میں دعوٰی کیا ہے کہ ڈاکٹر ارشد اپنی مرضی سے تنظیم میں شامل ہوئے تھے اور انہیں شہادت کا شوق تھا۔ ویڈیو میں القاعدہ کے رہنماء شیخ مصطفٰی ابویزید کا بیان بھی شامل ہے جس میں وہ ڈاکٹروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ جنگجوؤں کا علاج کرنے کے لیے ڈاکٹر ارشد وحید کی طرح آگے آئیں۔

کراچی میں کور کمانڈر پر حملہ کرنے کے الزام میں ڈاکٹر ارشد وحید اپنے بھائی ڈاکٹر اکمل وحید کے ساتھ گرفتار ہوئے تھے۔ بعد میں پولیس نے دہشتگردوں کو طبی اور مالی امداد فراہم کرنے کے الزام میں ان کی گرفتاری ظاہر کی تھی۔ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے اس مقدمے میں انہیں اٹھارہ سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے سزا کے خلاف دائر اپیل پر انہیں بری کر دیا تھا۔

ڈاکٹر ارشد وحید پچھلے سال سولہ مارچ کو وزیرستان میں امریکی میزائل حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کے بھائی اجمل وحید کے مطابق’وہ وہاں جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے ریلیف ورک کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے‘۔ ڈاکٹر ارشد وحید کے ایک اور بھائی اسامہ وحید جو سافٹ ویئر انجینیئر ہیں، گذشتہ برس ستمبر میں کراچی سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ بعد میں راولپنڈی پولیس کی جانب سے ڈنمارک کے سفارتخانے پر بم حملے سمیت دہشتگردی کی دوسری وارداتوں میں جن نو افراد کی گرفتاری ظاہر کی گئی ان میں اسامہ وحید بھی شامل تھے۔ ان کے بڑے بھائی اجمل وحید جو ان دنوں آئر لینڈ میں ہیں، کا کہنا ہے کہ ’اسامہ وحید نوے کی دہائی کے شروع میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جہاد کے لیے گئے تھے لیکن اس کے بعد سے وہ مختلف کمپنیوں کے لئے سافٹ ویئر تیار کرنے کا کام کر رہے تھے‘۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔