
یہ دو سال میں طالبان کی جانب سے میڈیا کو جاری کیا جانے والا پہلا پمفلٹ ہے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی طالبان نے ایک پمفلٹ جاری کیا ہے جس میں ذرائع ابلاغ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ سوات میں نظام عدل اور امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں سے گریز کریں ورنہ ان کے خلاف شرعی عدالتوں میں جایا جا سکتا ہے اور اس کے تمام تر نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔
اردو زبان میں تحریر شدہ یہ پمفلٹ سوات میں مقامی اور قومی اخبارات کے دفاتر کے سامنے لگایا گیا ہے اور یہ پمفلٹ کمانڈر ’فدائین شعبہ تحریک طالبان سوات‘ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ پمفلٹ ایک سادہ کاغذ پر تحریر کیا گیا ہے جس کے شروع میں بڑے حروف میں’انتباہ‘ کا لفظ لکھا گیا ہے۔
سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے پفلٹ کے اجراء کی تصدیق کی ہے۔
پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ایک ہفتے سے تمام خبررساں ادارے سوات کی کوریج ایک نئے لب ولہجے سے کر رہے ہیں جس سے تاثر ملتا ہے کہ شاید آپ (میڈیا) مغربی نواز پالیسی پر کسی لالچ یا دباؤ کے تحت گامزن ہوگئے ہیں‘۔ پمفلٹ کے مطابق اس قسم کی خبروں سے نظام عدل اور امن کا عمل سبوتاژ ہو رہا ہے اور اس سے مغربی دنیا کی نظریں اس پر جمانے کی کوشش کی جارہی ہے‘۔ پمفلٹ میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر ذرائع ابلاغ اس قسم کی حرکات سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف شرعی عدالتوں میں جایا جا سکتا ہے جس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔
پمفلٹ کے مطابق’طالبان کی دو سالہ جدوجہد خالص نفاذ اسلام کے لیے تھی اس کے علاوہ ہمارا کوئی ایجنڈا اور نقطۂ نظر نہیں‘۔ پمفلٹ میں تمام خبررساں ، نجی اور سرکاری نیوز ایجنسیوں اور کالم نگاروں کو اطلاع دی گئی ہے کہ وہ اپنے کالموں اور سرخیوں میں اس خبر (پمفلٹ) کو جگہ دیں‘۔
سوات میں گزشتہ دو سال کے دوران طالبان کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیا جانے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا پمفلٹ ہے۔خیال رہے کہ چند ہفتے قبل صحافیوں کی بین الااقوامی تنظیم ’ آر ایس ایف‘ کی جانب سے سوات میڈیا کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی گئی تھی جس میں اخبار نویسوں کو درپیش مشکلات بیان کی گئی تھیں۔
© MMIX