Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 28 april, 2009, 17:08 GMT 22:08 PST

’طالبانائزیشن گوارا ہے طالبان نہیں‘

سوال پھر وہی ہے کہ حکومت ملک سے طالبانائزیشن کا خاتمہ کرنا چاہ رہی ہے یا اسے مزید فروغ دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ جو جنگ چھبیس جون دو ہزار دو میں جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر نیک محمد وزیر کےدرجنوں ساتھیوں کے خاتمے سے شروع ہوئی تھی وہ آج بھی اس شکل میں جاری ہے کہ ساتوں قبائلی ایجنسیاں اب سکیورٹی فورسز کی نقل وحرکت کے لیے گویا ’نوگو ایریاز‘ بن گئی ہیں۔

یہی حالت صوبہ سرحد کےملاکنڈ ڈویژن کی بھی ہے۔ یہاں بھی جنگ سوات کے امام ڈھیرئی مرکز سے شروع ہوئی تھی اور آج نوے فیصد سوات ، دیِر، بونیر اور شانگلہ کے کئی حصوں پر طالبان قابض ہوچکے ہیں۔سولہ فروری کو صوفی محمد کے ساتھ امن معاہدہ ہوا اور محض دو ماہ دس دن کے بعد اب یہ صرف ایک دستاویز کے طور پر سرکاری فائلوں میں ہے یا مولانا صوفی کے ریکارڈ میں۔البتہ گن شپ ہیلی کاپٹروں، جیٹ طیاروں، توپ کے گولوں کی آوازیں اب تک باقی ہیں ۔

مبصرین کے مطابق سوال یہ ہے کہ جب شمالی اورجنوبی وزیرستان، باجوڑ اور درہ آدم خیل اور دو مرتبہ سوات میں معاہدے کا نتیجہ طالبان کی قوت میں اضافے کی شکل میں نکلا تو پھر اس مشق کو بار بار دہرانے کی ضرورت کیا ہے۔

جب معاہدہ نہیں ہوا تھا تب فوجی آپریشن محض سوات میں جاری تھا لیکن اب معاہدے کے بعد فوجی کارروائی کی ضرورت ملاکنڈ ڈویژن کے مزید تین مزید اضلاع میں بھی پڑی۔ماضی کے تجربات کی روشنی میں طالبان سے مذاکرات کرنے پر ملک کے بعض حلقوں نے تنقید کی مگر ہر ٹاک شو اور بحث میں مرکزی اور صوبائی حکومت کے وزراء یہی کہتے رہے کہ نہیں مسئلہ طالبان کی شدت پسندی کا نہیں بلکہ وہاں پر انصاف کی فوری فراہمی کا ہے جس کے لیے نظام عدل یگولیشن لانے کی ضرورت ہے۔

جو جنگ چھبیس جون دو ہزار دو میں جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر نیک محمد وزیر کےدرجنوں ساتھیوں کے خاتمے سے شروع ہوئی تھی وہ آج بھی اس شکل میں جاری ہے کہ ساتوں قبائلی ایجنسیاں اب سکیورٹی فورسز کی نقل وحرکت کے لیے گویا ’نوگو ایریاز‘ بن گئی ہیں۔

یہ حلقے طالبان کے مطالبے کو عوام کا دیرینہ مطالبے کہتے رہے حالانکہ پچھلے سال عام انتخابات میں سیکولر عوامی نیشنل پارٹی نے سوات میں ’کلین سویپ‘ کیا تھا۔پارٹی کے منشور میں نظام عدل ریگولیشن کا سرے سے ذکر تک نہیں تھا۔

نظام عدل ریگولیشن کو پارلیمنٹ کی منظوری ملی اور عدالتی ڈھانچہ قائم ہونے والا تھا کہ اچانک لوئر دیر میں کارروائی شروع کی گئی، پھر اگلے دن بونیر کی باری آئی اور ذرائع کے مطابق شانگلہ میں بھی ایکشن ہو گااور یوں طالبان کو ان علاقوں سے ’ہانک ہانک‘ کر وادیِ سوات پہنچا دیا جائے گا جہاں پر ’فیصلہ کن جنگ‘ ہوگی۔ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والی کارروائی کو ’راہِ حق‘ کا نام دیا گیا جسے بظاہر فوجی اعتبار سے بظاہر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور اب’ کالی آندھی‘ کے نام سے فوجی کارروائی شروع کی گئی ہے۔

ماضی کی فوجی کاروائیوں کی طرح اس بار بھی ایسی فوجی حکمت عملی اپنائی گئی ہے جس سے شدت پسندوں کو کم اور عام لوگوں کو جانی اور مالی لحاظ سے زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔اسکا ایک ثبوت یہ ہے کہ لوئر دیر سے تیس ہزار کے قریب لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، ان کے مکانات گولوں کا نشانہ بنے اور چار عام شہری ہیلی کاپٹر کی شیلنگ میں جان سے ہاتھ دھو بھیٹے۔

سرکای سطح پرگزشتہ دو ماہ تک خاموشی کے بعد اب یہ ہو رہا ہے کہ پھر بغیر ثبوت دیئے ایک اعلامیہ جاری ہوتا ہے کہ بیس شدت پسند مارے گئے، چھبیس پرسوں ہلاک ہوئے اور دو دنوں میں ہلاک کیے جانے والے شدت پسندوں کی کل تعداد چھیالیس ہوگئی ہے۔ مگر آج تک میڈیا کو ایک لاش بھی نہیں دکھائی گئی۔ بریفنگ میں صحافیوں کو ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو سنائی جاتی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ گفتگو ریکارڈ ہونے کے وقت شدت پسندوں کو پکڑنے اور مارنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔

چنانچہ مبصرین کے نزدیک سوال پھر یہی ہے کہ حکومت ملک سے طالبانائزیشن کا خاتمہ کرنا چاہ رہی ہے یا اسے مزید فروغ دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ اس کا جواب ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے اضافے کے دوران پاکستان کے ایک اعلی سکیورٹی اہلکار نے دے دیا تھا کہ ’مولانا فضل اللہ اور بیت اللہ دونوں محبِ وطن ہیں‘۔تاہم ایک جواب یہ بھی ہے کہ’حکومت طالبان کو تو مارنا چاہتی ہے مگر طالبانائزیشن کو نہیں‘۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔