
’آپریشن کے دوران توپخانہ بھی استعمال ہو رہا ہے‘
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ لوئر دیر کو شرپسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے اور منگل کی شام سے بونیر میں آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ بات انہوں نے منگل کو راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے بتایا کہ دیر میں کیے گئے آپریشن میں فرنٹیئر کور کے دس اہلکار اور ستر سے پچھہتر شرپسند ہلاک ہوئے ہیں۔
میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ بونیر میں شروع کیے گئے آپریشن میں جیٹ طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ’یہ آپریشن ڈائریکٹر جنرل ایف سی کی سربراہی میں کیا جا رہا ہے جنہیں آپریشن کے دوران فوج کی مدد بھی حاصل ہو گی اور آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک شرپسندوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا‘۔
بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ بونیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق منگل کو جیٹ طیاروں نے بونیر اور سوات کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق جنگی طیاروں نے پیر با با کے مزار کے قریب واقع علاقوں پر بمباری کی جہاں چند ہفتے قبل طالبان کا کنٹرول بتایا جاتا تھا۔ اس بمباری سے ہلاکتوں کی کوئی مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں تاہم یہ اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز کے دستے بونیر کی طرف روانہ کیے گئے ہیں اور اس دوران شہباز گڑھ سے امبیلا تک کرفیو نافذ رہا ہے۔
سکیورٹی فورسز سوات میں طالبان کے رہنما مولانا فضل اللہ کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اطہر عباس
پریس کانفرنس میں فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز سوات میں طالبان کے رہنما مولانا فضل اللہ کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان بونیر پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر مفتی آفتاب اور شیخ نامی شخص کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ٹیپ بھی سنائی جس میں کہا جا رہا تھا کہ’میڈیا کو دکھانے کے لیے چند طالبان گاڑیوں میں بٹھا دو تاکہ دنیا کو میڈیا کے ذریعے معلوم ہو جائے کہ طالبان نے بونیر چھوڑ گئے ہیں‘۔
پاک فوج کے ترجمان نے دیر لوئر کے آپریشن کے بارے میں بتایا کہ اس کارروائی کے دوران چھ سو خاندانوں نے نقل مکانی کی اور ان کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے اور سرکاری طور پر ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس مولانا صوفی محمد کے ہلاک ہونے یا لاپتہ ہونے کے حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بونیر میں سیکورٹی فورسز نے کارروائی کے لیے صوابی اور مردان کے راستے کھلے چھوڑے ہیں، کیا ایسا طالبان کو بھاگنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تو فوجی ترجمان نے کہا کہ وہ کسی آپریشنل حکمت عملی کے بارے میں فی الوقت کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتے۔
جنوبی پنجاب یعنی سرائیکی پٹی میں شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور فوج اور ایجنسیاں ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں
فوجی ترجمان
فوجی ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ سوات میں مولانا فضل اللہ اور ان کے حامیوں نے دوبارہ چوکیاں قائم کرکے مسلح گشت شروع کردیا ہے اور سیکورٹی فورسز پر حملے بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوات میں غیر ملکی شدت پسند موجود نہیں ہیں البتہ پنجاب سے کچھ شدت پسند سوات گئے تھے۔ فوجی ترجمان کے مطابق سوات میں طالبان شدت پسندوں کی تعداد چار سے ساڑھے چار سو کے قریب ہے اور ان کے پاس کلاشنکوف، بارودی سرنگ، راکٹ اور دیگر قسم کا اسلحہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا صوفی محمد کو بیرون ملک سے اسلحہ، پیسہ، اور مواصلاتی نظام کے آلات ملتے رہے ہیں۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جنوبی پنجاب یعنی سرائیکی پٹی میں شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور فوج اور ایجنسیاں ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد پر شدت پسند کبھی قبضہ نہیں کرسکتے کیونکہ فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز انہیں روکنے اور ختم کرنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہیں۔
© MMIX