Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 28 april, 2009, 11:33 GMT 16:33 PST

’طالبان کا پیارا، حکومت کو گوارا‘

محمد جاوید

سید محمد جاوید سوات کے ضلعی رابطہ افسر کے طور پر مولانا فضل اللہ کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے انکے مرکز امام ڈھیرئی جایا کرتے تھے

وضع قطع سے مذہبی معلوم ہونے والے سید محمد جاوید اس وقت ملاکنڈ ڈویژن کی سب سے جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ طالبان انہیں ’راسیخ العقیدہ مسلمان‘ اور طالبان کے مخالفین انہیں ’کمشنر طالبان‘ یا ’کمشنر فضل اللہ‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

سوات امن معاہدے کے بعد صوبائی حکومت نے سید محمد جاوید کو ملاکنڈ ڈویژن کا کمشنر مقرر کر کے انہیں طالبان کی صفوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بطور ’پُل‘ استعمال کیا لیکن اب ان کے تبادلےکے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس ’پل‘ کو توڑ دیا ہے۔

ضلع مردان کے شیرگڑہ کےگاؤں شمعون میں ایک دینی عالم کے گھر میں پیدا ہونے والے سید محمد جاوید زمانہ طالبعلمی میں اسلامی جمیعت طلبہ کے فعال رکن تھے۔ شمعون گاؤں ان کے والد کے نام سے منسوب ہے۔ انہوں نے اسی کی دہائی میں ’سی ایس ایس‘ ایسے وقت کیا جب جنرل ضیاءالحق اسلامائزیشن کے ایجنڈے کے تحت قومی اداروں میں مذہبی سوچ رکھنے والوں کو بھرتی کرنے کو ترجیح دے رہے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سید محمد جاوید کو ان بیورو کریٹس میں سے شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے نوے کی دہائی میں مولانا صوفی محمد کی کالعدم نفاذ شریعت محمدی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔لیکن انہیں اس وقت شہرت ملی جب دوہزار چھ میں تحریکِ طالبان سوات کے سربراہ مولانا فضل اللہ اپنی سخت گیر خیالات کے ساتھ ایک عسکری قوت کے طور پر ابھر رہے تھے

ذرائع کا کہنا ہے کہ سید محمد جاوید کو ان بیورو کریٹس میں سے شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے نوے کی دہائی میں مولانا صوفی محمد کی کالعدم نفاذ شریعت محمدی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن انہیں اس وقت شہرت ملی جب سنہ دوہزار چھ میں تحریکِ طالبان سوات کے سربراہ مولانا فضل اللہ اپنے سخت گیر خیالات کے ساتھ ایک عسکری قوت کے طور پر ابھر رہے تھے۔

سید محمد جاوید سوات کے ضلعی رابطہ افسر کے طور پر مولانا فضل اللہ کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے ان کے مرکز امام ڈھیرئی جایا کرتے تھے۔انہوں نے بالآخر ایک ’معاہدے کے تحت مولانا فضل اللہ کو غیر قانونی ایف ایم چینل چلانے کی بھی اجازت دیدی‘۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی حکومت نے مولانا فضل اللہ کو شرپسند اور ملک دشمن قرار دیا تھا مگر اس دوران سوات کے ضلعی رابطہ افسر کے طور پر ریاست کی نمائندگی کرنے والے سید جاوید اور مولانا فضل اللہ کے درمیان امام اور مقتدی کا رشتہ قائم ہوگیا تھا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ’کبھی وہ اور کبھی مولانا فضل اللہ نماز کی امامت کیا کرتے تھے‘۔

دونوں کے تعلقات اتنے گہرے ہوگئے تھے کہ صوبہ سرحد کے بیوروکریٹ نجی محفل میں کہا کرتے تھے کہ ’سید محمد جاوید رات کو طالب اور دن کو ضلعی رابطہ افسر ہوتے ہیں‘۔ایک دفعہ جب میں نے یہ بات ان کے گوش گزار کی تو انہوں نے ہنس کے جواب دیا کہ ’لوگ کہتے رہیں میں کیا کرسکتا ہوں‘۔

لیکن ان کے درمیان قائم ہونے والے تعلقات کی یہ کہانی اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے کانوں تک بھی پہنچ گئی تھی اور ایک دفعہ وہ ایک وفد کے ہمراہ جب پرویز مشرف سے ملنے گئے تو بقول ایک افسر کے مصافحہ کے وقت انہوں نے اپنا تعارف کراتے وقت کہا، سید محمد جاوید تو پرویز مشروف نے ہنس کرکہا ’اوہ یہ تو طالبان کے ساتھی ہیں‘۔

جب اکتوبر دوہزار سات میں حکومت نے سوات میں باقاعدہ فوجی کارروائی کا آغاز کیا تو ذرائع کے مطابق انہیں آپریشن کے دوران مبینہ رکاوٹ سمجھتے ہوئے حکومت نے بطور ڈی سی سوات سے ان کا تبادلہ کر دیا۔

سید محمد جاوید سوات میں خدمات سرانجام دینے والے وہ واحد افسر ہیں جن کا معاہدے کے بعد بطورِ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن دوبارہ تقرری کا طالبان ترجمان مسلم خان نے بھی خیر مقدم کیا ان دوماہ کے دوران ان کا دفتر طالبان اور نفاذ شریعت محمدی کے رہنماؤں کا مرکز بن گیا تھا اور وہ جہاں کہیں بھی جاتے تو پولیس کی بجائے طالبان کمانڈر محمود خان انکی حفاظت کے لیے انکے ہمرا ہوتے تھے۔

عینی شاہدین

سید محمد جاوید سوات میں خدمات سرانجام دینے والے وہ واحد افسر ہیں جن کی بطورِ کمشنر مالاکنڈ ڈویژن دوبارہ تقرری کا طالبان ترجمان مسلم خان نے بھی خیر مقدم کیا۔ عینی شاہدین کے بقول گزشتہ دوماہ کے دوران ان کا دفتر طالبان اور نفاذ شریعت محمدی کے رہنماؤں کا مرکز بن گیا تھا اور وہ جہاں کہیں بھی جاتے پولیس کی بجائے طالبان کمانڈر محمود خان ان کی حفاظت کے لیے ہمرا ہوتے تھے۔

طالبان اور سید محمد جاوید کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات نے وہاں پر موجود افسران کو بھی پریشانی میں مبتلا کردیا تھا۔ سوات کےسابق پولیس سربراہ نے سید محمد جاوید کے خلاف صوبائی حکومت کو باقاعدہ ایک مکتوب بھی لکھا۔

ذرائع کے مطابق مکتوب میں پولیس سربراہ نے الزام لگایا ’ کہ سید محمد جاوید کی رہائش گاہ ریاست مخالف سرگرمیوں کا گڑھ بن چکی ہے‘۔ مکتوب میں مزید کہا گیا کہ ’ کمشنر سید محمد جاوید پولیس اور عدلیہ کو طالبان کے سامنے سرینڈر کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور بے شک ان کی ان کوششوں سے امن قائم تو ہوجائے گا لیکن یہ حکومت کی نہیں بلکہ طالبان کی عملداری قائم ہونے کی قیمت پر‘۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے پولیس سربراہ کو جواباً کہا کہ ’آپ کمشنر کے ماتحت ہیں لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ ان کے خلاف اعلٰی حکام کو سرکاری طور پر خطوط لکھتے رہیں‘۔ بعد میں پولیس سربراہ کا سوات سے تبادلہ کردیاگیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بونیر میں کمشنر کے کردار اور طالبان کی طاقت میں کمی کے بجائے دن بدن اضافہ نے صوبائی حکومت اور ان کے تعلقات کو خراب کردیا اورحکومت کو انکے تبادلے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ان پر الزام تھا کہ بونیر میں طالبان کے داخلے کے وقت انہوں نے مقامی پولیس اہلکاروں سے کارروائی نہ کرنے کی ہدایت کی جبکہ عمائدین کو مذاکرات میں الجھا کر طالبان کو مزید کمک پہنچنے کا موقع فراہم کیا۔ تاہم انہوں نے ہمیشہ اس الزام کو رد کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بونیر میں کمشنر کے کردار اور طالبان کی طاقت میں کمی کے بجائے دن بدن اضافے کے نتیجے میں حکومت کو ان کے تبادلے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ان پر الزام تھا کہ بونیر میں طالبان کے داخلے کے وقت انہوں نے مقامی پولیس اہلکاروں کو کارروائی نہ کرنے کی ہدایت کی جبکہ عمائدین کو مذاکرات میں الجھا کر طالبان کو مزید کمک پہنچنے کا موقع فراہم کیا۔ تاہم سید محمد جاوید نے ہمیشہ اس الزام کو رد کیا ہے۔

سید محمد جاوید کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی اب بھی جماعت اسلامی کے ساتھ گہری وابستگی ہے اور ہر اتوار کو شیرگڑھ میں ان کے حجرے پر درسِ قرآن کا انعقاد ہوتا ہے اور اس موقع پر لنگر بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔

ان کے بقول وہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے سیاسی اور ارتقائی عمل پر نہیں بلکہ انقلابی تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ ان کی تصویر نہ لی جائے اور ٹیلی ویژن دیکھنے سے بھی احتراز کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں میڈیا کی یلغار نے انہیں تصویر اور فوٹیج بنوانے پر مجبور کردیا۔

ذرائع کے مطابق کمشنر تعینات ہونے کے بعد انہوں نے کمشنر ہاؤس سے ٹیلی ویژن کو ہٹادیا تاہم مذاکرات کے لیے جانے والے صوبائی وزراء کے حکم پر ٹیلی ویژن کمشنر ہاؤس میں واپس رکھ دیا گیا۔

جب وہ سوات کے ضلعی رابط افسر تھے تو ان دنوں جب طالبان نے سی ڈی فلمیں فروخت کرنے والے دکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا تو ایک ملاقات کے دوران سید محمد جاوید نے دکانداروں سے کہا کہ ’آپ لوگ بھی دوکانوں کو بند کردو اور اس غیر شرعی کاروبار کو چھوڑ دو‘۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔