Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 25 april, 2009, 08:40 GMT 13:40 PST

’حکومت حقائق سے پردہ پوشی کررہی ہے‘

صوفی محمد

کالعدم تحریک نفاذ شریعت کے سربراہ صوفی محمد نے حکومتی نظام کو کافروں کا نظام قرار دیا ہے

یوں لگتا ہے کہ جیسے حکومت پاکستان کے صوبہ سرحد میں پائے جانے والے ’طالبان خطرے‘ سے یا تو نمٹنا نہیں چاہتی یا پھر اس میں ایسا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔

پاکستان کی فوج اور سیاست میں پائے جانے والے انتشار اور عوام میں پائی جانے والی بے بسی ایسے عناصر ہیں جن کے باعث پاکستان کے شمالی علاقوں میں طالبان کا دائرہ کار وسیع تر ہوتا جارہا ہے اور وہ حکومت کو مفلوج کرکے زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتےہیں۔

اگرچہ بیشتر پاکستانی عوام اس بات پر متفق ہیں کہ طالبان اور ان کے شدت پسند حامی پاکستانی ریاست کے لیے بڑا خطرہ ہیں تاہم حکومت حقائق سے پردہ پوشی کرتی نظر آتی ہے۔

حکومت کے ساتھ سوات میں نفاذ شریعت کے معاہدے کے کچھ ہی دن بعد طالبان اس معاہدے کی خلاف ورزی کرچکے ہیں۔ انہوں نے غیر مسلح ہونے سے انکار کردیا ہے۔ علاقے کی انتظامیہ، پولیس اور تعلیم کے شعبے پہلے ہی طالبان کے زیر انتظام آچکے ہیں اور اب یہ اثر دیگر ملحقہ علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے۔

پاکستان کے دو قریبی دوست ملکوں چین اور سعودی عرب نے کہا ہے کہ طالبان ملکی سکیورٹی کےلیے خطرہ ہیں۔ طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ پاکستان ان مطالبات کو رد کرنے کے باعث بین الاقوامی برادری میں تنہا ہوتا جارہا ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پارلیمان پر دباؤ ڈالا کہ وہ نفاذ شریعت کے معاہدے کو قانونی شکل دے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان ریاست کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ طالبان کی جانب سے دھمکیوں کے بعد صدر آصف زرداری نے جلد ہی اس مسودے پر دستخط کر ڈالے تاہم انہوں نے اپنی سی کوشش کی کہ دستخط کرنے کے معاملے کو طول دیا جائے۔

پارلیمان میں صرف متحدہ قومی موومنٹ نے اس بل کی صاف طور پر مخالفت کی۔

اس معاہدے کے تحت آئین کو نظر انداز کرکے سوات میں ایک نئے قانونی نظام کی بات کی گئی ہے جوکہ شرعی قانون نہیں ہے بلکہ طالبان کا جابرانہ نظام قانون ہے۔ وزیر اعظم نے اس معاہدے کے بعد کہا تھا کہ’ہم نے جوکچھ کیا وہ آئین کے مطابق ہے اور اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں‘۔

درحقیقت پاکستانی عوام کی اکثریت بے انتہا پریشانی کا شکار ہے۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کو اس قدر جلدی طالبان کی شرائط نہیں ماننی چاہیئے تھیں۔

صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہوگئی جب طالبان نے اسامہ بن لادن کو سوات میں پناہ لینے کی پیشکش کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوات پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے۔

کالعدم تحریک نفاذ شریعت کے سربراہ صوفی محمد نے، جنہیں حکومت معتدل خیالات کے حامی کہتی ہے اور جن کے داماد فضل اللہ سوات کے طالبان کے سربراہ ہیں، کہا ہے کہ پاکستان کا جمہوری، قانونی اور معاشرتی نظام ختم کردینا چاہیئے کیونکہ یہ سب ’کافروں کا نظام‘ ہے۔

فوج کا حیران کن رویہ

طالبان اب جنوبی پنجاب کے حصوں میں بھی اثر نداز ہورہے ہیں اور اس تمام قصے میں سب سے زیادہ حیران کن رویہ فوج کا ہے جو طالبان سے نمٹنے کے لیے تمام بین الاقوامی اور اندرونی دباؤ کو رد کرچکی ہے۔ فوج کا اب تک صرف ایک رد عمل سامنے آیا ہے اور وہ بھی جب اس نے ہنگو کے نزدیک شدت پسندوں کے ایک خودکش حملے کے بعد قبائلی علاقے پر بمباری کی تھی۔ اس خودکش حملے میں 25 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اس ردعمل سے بہت سے پاکستانیوں کو مایوسی ہوئی کیونکہ انہیں معلوم ہوگیا کہ فوج اس وقت جوابی کارروائی کرتی ہے جب اس کے اپنے اہلکار حملوں کی زد میں آتے ہیں۔

وہ گروہ جو اپنے طور پر طالبان کے مخالف ہیں، انہیں حکومت کی جانب سے پشت پناہی حاصل نہیں ہے۔

طالبان کی جانب سے بہت سے محاذ کھولے جانے کے بعد فوج کے لیے عنقریب جوابی ردعمل ظاہر کرنا مشکل تر ہوتا جائے گا۔

فوج کے کارروائی نہ کرنے کی حکمت عملی پاکستانیوں کے لیے بلا جواز ہے۔ فوج کا اب بھی یہ اصرار ہے کہ ملک کو بڑا خطرہ بھارت سے لاحق ہے۔ اب بھی 80 فیصد فوج بھارت کے ساتھ سرحد پر تعینات ہے۔ فوج نے کارروائی کرنے کے امریکہ اور نیٹو کے مطالبات کو بھی رد کردیا ہے۔

زرداری، گیلانی

حکومت کے کارروائی نہ کرنے کی حکمت عملی پاکستانیوں کے لیے بلا جواز ہے

امریکی صدر اوبامہ کے افغانستان کو مستحکم کرنے کے منصوبوں کے باوجود فوج کا کہنا ہے کہ امریکی جلد ہی افغانستان سے چلے جائیں گے اور پاکستان کو کابل میں اپنی حامی افغان حکومت کے قیام میں مدد کے لیے تیار رہنا چاہئے۔

پاکستان کے دو قریبی دوست ملکوں چین اور سعودی عرب نے کہا ہے کہ طالبان ملکی سکیورٹی کےلیے خطرہ ہیں۔ طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ پاکستان ان مطالبات کو رد کرنے کے باعث بین الاقوامی برادری میں تنہا ہوتا جارہا ہے۔

امریکہ اور نیٹو کے مطابق ملک بحران کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔امریکہ نے 21000 فوجیوں کی کمک جنوبی افعانستان میں تعینات کی ہے۔ اگست میں انتخابات کے دوران نیٹو کے مزید 5000 فوجی افغانستان جائیں گے۔ امریکہ اور فغانستان دونوں ہی پاکستانی سرحدوں کی جانب سے شدت پسندوں کی مسلسل افغانستان آمد کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے۔

فوج یا حکومت کی جانب سے ’طالبان کے خطرے‘ پر قابو پانے کی کوشش نہ کرنا پاکستانی عوام اور عالمی برادری ساتھ کیے گئے حکومتی وعدوں اور ارادوں کی بڑی ناکامی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔