آخری وقت اشاعت:  Saturday, 25 april, 2009, 10:38 GMT 15:38 PST

اے این پی کارکن ہلاک

کراچی تشدد (فائل فوٹو)

کراچی میں گزشتہ کئی ہفتوں سے کشیدگی پائی جاتی ہے

جمعہ کی رات آرام باغ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے 30 سالہ سہیل خٹک کو ہلاک کردیا۔ سلطان آباد کا رہائشی سہیل خٹک پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی آرگنائزنگ کمیٹی کا رکن بتایا جاتا ہے۔

سہیل خٹک کے قتل کے بعد میٹھادر، کھارادر، آرام باغ، سلطان آباد، بنارس اور دیگر علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے واقعات رونماء ہوئے جس سے شہر میں کشیدگی پھیل گئی اور افواہوں کا سلسلہ چل نکلا جس کے بعد شہر میں کھلی ہوئی دکانیں بھی بند ہوگئیں اور سڑکوں سے بسیں اور منی بسیں بھی غائب ہوگئیں جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سنیچر کی صبح بنارس کے علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور شہر میں پولیس کا گشت بڑھادیا گیا ہے جبکہ سڑکوں پر بسیں اور منی بسیں اور ٹرانسپورٹ معمول سے کم ہے۔

جمعہ کی رات بعض علاقوں میں فائرنگ کے واقعات اور امن و امان کی خرات صورتحال کے باعث محکمۂ داخلہ نے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرتے ہوئے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، جلسے، جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

صوبائی حکومت نے شہر میں ڈبل سواری پر پابندی صرف پندرہ دن پہلے ختم کی تھی تاہم پولیس نے محکمۂ داخلہ سے درخواست کی کہ شہر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور شرپسند عناصر کی حرکات و سکنات کو محدود کرنے کے لیے ڈبل سواری پر پابندی لگائی جائے۔

سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل سلطان صلاح الدین بابر خٹک نے شہر کے بعض علاقوں میں رونما ہونے والے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سندھ پولیس کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی میں ملوث شرپسندوں سے نہایت سختی سے نمٹا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولنگ اورگشت کو موثر بنایا جائے اور خاص طور پر متاثرہ علاقوں میں خصوصی طور پر متواتر پیٹرولنگ کی جائے۔

محکمۂ داخلہ سندھ نے ایک اور نوٹیفیکیشن کے ذریعے دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت شہر بھر میں ہر قسم کے جلسے اور جلوسوں اور ریلیوں پر ایک ماہ کے لئے پابندی عائد کردی ہے۔

حکومت کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے بعد عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے سربراہ شاہی سید نے بارہ مئی کو نشتر پارک میں جسلہ منعقد کرنے کے اعلان کو واپس لے لیا ہے اور اب انہوں نے بارہ مئی کو پہیہ جام ہڑتال کی کال دی ہے۔

شاہی سید نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے کراچی میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے ذریعے پختون ایکشن کمیٹی کے پرامن جلسوں اور جلوسوں کے روکنے کے احکامات قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے اپنی اتحادی جماعت کے خلاف ان اقدامات کی بھرپور مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ یوم شہداء بارہ مئی کے سلسے میں اے این پی نے ہر زون کی سطح پر جلسے منعقد کرنے اور بارہ مئی کو مرکزی جلسہ نشتر پارک میں منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم نقض امن کے خدشات کو بہانہ بنا کر پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان جلسوں کو روکنے کےلئے دفعہ ایک سو چوالیس کا استعمال کیا ہے، جس کے اپنے جیالے بھی اُس روز دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔

ان کے بقول دنیا جانتی ہے کہ کراچی کا امن کون تباہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارہ مئی کو پختون ایکشن کمیٹی کے تحت شہر بھر میں ہڑتال ہوگی اور گھروں پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے۔

انہوں نے حکومت اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ شہداء بارہ مئی کے ذمہ داروں کو بے نقاب کرکے عبرتناک سزا دی جائے اور بارہ مئی کو قومی دن کے طور پر منایا جائے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔