Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 25 april, 2009, 17:18 GMT 22:18 PST

بلوچستان کے بگڑتے حالات

اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہلکار جان سلیکی اپریل کے شروع میں بازیاب ہوئے

بلوچستان میں فروری سن دو ہزار چار میں ایک لیڈی ڈاکٹر سے جنسی زیادتی کا واقعہ، مارچ سن دوہزار پانچ میں فرنٹیئر کور اور بگٹی قبیلے کے مسلح افراد کے مابین جھڑپ اور پھر دسمبر سن دو ہزار پانچ میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن کے بعد بلوچ رہنماؤں کا قتل ایسے واقعات ہیں جن کے نتیجے میں آج بلوچستان میں کھلے عام آزادی کے نعرے لگ رہے ہیں۔

صوبے کے سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ بلوچستان میں چوتھا فوجی آپریشن جاری ہے اور اسلام آباد نے ہمیشہ بلوچستان کو طاقت کے ذریعے فتح کرنے کی کوشش کی ہے۔

آج بلوچستان کے بیشتر جنوبی اضلاع میں پائی جانے والی کشیدگی انتہائی شدت اختیار کر چکی ہے۔ میرے سامنے آج سیاسی رہنماؤں کے وہ بیانات آ رہے ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ خدا نہ کرے کہ حالات اس نہج تک پہنچ جائیں کہ جہاں سیاسی قائدین بھی کوئی کردار ادا نہ کر سکیں۔

سابق وزیر اعلیٰ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد ایک جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ یہ آپریشن انقلاب برپا کرے گا اور یہ انقلاب تمام محکوم قوموں کا انقلاب ہوگا۔

اگر گزشتہ پانچ سالوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلوچستان کے حالات جان بوجھ کر بگاڑے گئے ہیں۔ مشاہد حسین اور وسیم سجاد کی سربراہی میں جو کمیٹیاں قائم کی گئیں اور ان کی رپورٹس بھی جمع کرائی گئیں لیکن ان پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

اگر بلوچستان کے مسئلے کی طرف توجہ نہ دی گئی تو انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے

مبصرین

یوں تو بلوچستان میں کشیدگی پائی جاتی تھی لیکن فروری سن دو ہزار چار میں سوئی میں گیس کمپنی کے ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر سے جنسی زیادتی کی گئی اور اس کا الزام حفاظت پر مامور ایک فوجی کیپٹن پر عائد کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی اور مسلح افراد اور فوجیوں کے مابین جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں فوجیوں سمیت دو درجن افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مارچ سن دو ہزار پانچ میں ایک صبح اچانک فرنٹیئر کور اور مسلح قبائلیوں کے مابین ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جس کے نتیجے میں نواب اکبر بگٹی کے مطابق تراسی کے لگ بھگ بے گناہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں ایک بڑی تعداد ہندوؤں کی تھی۔ اس وقت نواب اکبر بگٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کی بھاری نفری اور اسلحہ ڈیرہ بگٹی پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس جھڑپ کے دوران ان کے مکان پر ایک گولہ گرا تھا اور وہ وہاں موجود تھے لیکن اس میں محفوظ رہے تھے۔

اسلام آباد نے ہمیشہ بلوچستان کو طاقت کے ذریعے فتح کرنے کی کوشش کی ہے

سیاسی رہنما، بلوچستان

اس کے بعد دسمبر سن دو ہزار پانچ میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف کے دورے کے بعد کوہلو اور پھر ڈیرہ بگٹی میں باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے یہی کہا گیا کہ ان علاقوں میں کوئی تیس کے لگ بھگ فراری کیمپ ہیں جہاں سے مسلح افراد قومی تنصیبات پر حملے کرتے ہیں جن کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ اس وقت کے بلوچستان کے گورنر اویس احمد غنی نے کہا تھا کہ کہ فوجی آپریشن کہیں نہیں ہو رہا ۔

اس فوجی کارروائی میں نواب اکبر بگٹی سمیت کئی بلوچ رہنما اور کارکن ہلاک یا گرفتار کیے گئے لیکن فراری کیمپ ختم نہیں کیے جا سکے کیونکہ اب بھی قومی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور یہ حملے اب قومی تنصیبات تک محدود نہیں ہیں بلکہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس سال اپریل کے پہلے ہفتے میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہلکار جان سلیکی کی بازیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے غلام محمد بلوچ اور ان کے دو ساتھیوں کے قتل کے بعد جو فسادات ہوئے ہیں اس سے بلوچستان میں پائی جانے والی کشیدگی میں کافی اضافہ ہوا ہے اور اب بلوچستان میں کھلے عام آزادی کے نعرے لگ رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان کے مسئلے کی طرف توجہ نہ دی گئی تو انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔