
کارروائی کا مقصد ایجنسی میں امن کے عمل کو خراب ہونے سے بچانا ہے:مولوی عمر
کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے باجوڑ ایجنسی میں تمام عسکری تنظیموں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں تحریک نفاذ شریعتی محمدی اور خود کو افغانستان کے طالبان کہنے والے ساٹھ مسلح افراد کو حراست میں لینے کا دعوی کیا گیا ہے۔
تحریک کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ باجوڑ میں جنگ بندی اور امن معاہدے کے باوجود بھی بعض مسلح تنظیموں نے علاقے میں سرعام سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھی جس سے ایجنسی میں امن کا عمل سبوتاژ ہورہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک کی مرکزی شورٰی کے فیصلے کے مطابق ایسی تمام تر تنظیموں کو مہلت دی گئی تھی کہ وہ دو دن کے اندر اندر اپنی تمام تر مسلح سرگرمیاں بند کردے ورنہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی لیکن بعض عسکری تنظمیوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور اپنی سرگرمیاں بدستور جاری رکھی۔ مولوی عمر نے دعوٰی کیا کہ اس سلسلے میں مقامی طالبان نے کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ دو دنوں کے دوران ساٹھ کے قریب مسلح افراد کو حراست میں لے کر طالبان کی جیلوں میں بند کر دیا ہے جن میں ان کے مطابق تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے کارکن اور خود کو افغان طالبان کہنے والے افراد شامل ہیں۔
مولوی عمر نے مزید بتایا کہ یہ کارروائی ایجنسی میں امن کے عمل کو خراب ہونے سے بچانے کےلیے کی گئی ہے تاکہ حکومت اور طالبان کے مابین طے ہونے والی جنگ بندی اور امن معاہدے پر عمل درامد کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے بقول طالبان شوری نے فیصلہ کیا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں کسی عسکری تنظیم اور سیاسی جماعتوں اس وقت تک سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائےگی جب تک ایجنسی میں مکمل امن قائم نہیں ہوجاتا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جو تنظیمیں خود کو افغان طالبان کا حصہ سمجھتے ہیں ان کے پاس دراصل ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ وہ دوسروں کے کہنے پر ایجنسی میں امن کے عمل کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔ مولوی عمر کا کہنا تھا کہ باجوڑ ایجنسی میں کئی ماہ کی جنگ اور تباہی کے بعد امن قائم ہوا ہے اور ابھی ان کے حکومت سے معاملات پوری طرح حل بھی نہیں ہو پائے ہیں جبکہ ان حالات میں ایجنسی میں مسلح سرگرمیاں دوبارہ سے معاملات کو بگاڑ سکتے ہیں۔
طالبان ترجمان نے اس بات کی بارہا تردید کی کہ یہ پابندیاں حکومت کی کہنے پر لگائی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ تقریباً دو ماہ قبل مقامی طالبان نے باجوڑ میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے خلاف ہر قسم کے حملے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد قبائل اور حکومت کے مابین امن معاہدے طے پائے تھے جس میں قبائل نے طالبان کے ہتھیار ڈالنے اور ان کےمبینہ تربیتی مراکز کو تباہ کرنے کی ضمانت دی تھی۔
گزشتہ سال اگست میں سکیورٹی فورسز نے باجوڑ ایجنسی میں بھرپور آپریشن کا اغاز کیا تھا جس کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ افراد نے بے گھر ہوکر پشاور اور نوشہرہ میں مہاجر کیمپوں میں پناہ لی تھی۔ ان مہاجرین میں اکثریت بدستور مہاجر کیپموں میں مقیم ہیں۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔