
بیرونی امداد کبھی بھی پیداواری صلاحیت کو بہتر کرنے پر صرف نہیں کی گئی ہے
معاشی ماہرین کے مطابق فرینڈز آف پاکستان سے ملنے والی امداد کم و بیش حکومتی توقع کے مطابق ہے تاہم امداد سے پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات کے ختم ہونے کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں ۔
جمعہ کو جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ’ فرینڈز آف پاکستان‘ کے اجلاس میں پاکستان کو تقریباً پانچ ارب ڈالر کی امداد کے وعدے کیےگئے ہیں ۔
معاشی ماہر قیصر بنگالی کے مطابق پاکستان کو ملنے والی امداد حکومتی توقع کے مطابق ہے لیکن اس سے عام آدمی اور خاص طور پر پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اسی کی دہائی میں افغان جنگ کے دوران اور اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اربوں ڈالر کی امداد ملی چکی ہے لیکن حکومت نے کبھی بھی یہ امداد معاشی ڈھانچے کو بہتر کرنے اور ملک کی پیداواری صلاحیت کو بہتر کرنے پر صرف نہیں کی ہے۔
قیصر بنگالی نے کہا کہ پاکستان کو امداد تو مل گئی ہے لیکن اصل بات یہ دیکھنے کی ہے کہ ماضی کی طرح اس امداد کا استعمال کہاں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو حاصل ہونے والی امداد اور ٹیکسوں کا زیادہ تر حصہ دفاع اور حکومتی انتظامات چلانے پر صرف کیا جاتا ہے۔ قیصر بنگالی کے بقول پاکستان ایسا کارخانہ ہے جس سے حاصل ہونے والی آمدن کو غیر پیداواری مد میں خرچ کر دیا جاتا ہے لیکن اس کارخانے کے لیےسپیئر پارٹس اور خام مال خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کے موجود مالی نظام کو تبدیل نہیں کیا جاتا اور ملک کے اندر سے جمع ہونے والے محصولات اور بیرونی ممالک سے حاصل ہونے والی امداد کو پیداواری شعبے میں نہیں لگایا جاتا اس وقت تک بیرونی امداد سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
ملک کے معاشی حالات پر نظر رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’ایس ڈی پی آئی‘ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ حکومت کو پہلے توقع تھی کہ فرینڈز آف پاکستان سے تیس ارب ڈالر کی امداد ملے گئی لیکن حالات دیکھتے ہوئے حکومت نے امداد کے ہدف کو چار سے چھ ارب ڈالر کر لیا جسے حاصل کرنے میں حکومت کامیاب بھی ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ملنے والی امداد میں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس میں نئی امدادی رقم کتنی ہے کیونکہ جس طرح امریکہ کے صدر براک اوباما نے نئی پاک افغان پالیسی کے دوران پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا تھا اور فرینڈز آف پاکستان میں امریکہ کے اعلان کردہ ایک ارب ڈالر اسی ڈیڑھ ارب سالانہ امداد کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کی مثال پہلے سے موجود ہے جب دو ہزار پانچ کے زلزلہ کے دوران پاکستان میں ڈونرز کے اجلاس میں تقریباً چھ ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد میں پاکستان کو صرف ایک ارب ڈالر نقد امداد ملی اور باقی امداد یا تو مختلف ملکوں نے پاکستان میں پہلے سے جاری منصوبوں کا حصہ کہا یا اعلان کردہ امداد اب تک ملی ہی نہیں ہے۔
عابد قیوم سلہری نے کہا نے فرینڈز آف پاکستان سے ملنے والی امداد پروجیکٹ بیس توانائی صحت ، ڈیفنس کے لیے ہے یعنی نقد رقم نہیں ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چونکہ معاشی بحران کا شکار ہے اس سے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کیا گیا اور آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے کئی ترقیاتی منصوبوں کو ختم کرنا پڑا یا ان کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر فرینڈز آف پاکستان سے پاکستان کو اعلان کردہ ساری امداد مل جاتی ہے تو ہو سکتا کہ آئندہ مالی بجٹ میں منجمد کیے گئے ترقیاتی منصوبوں میں سے بعض شروع کیے جا سکیں ۔
انہوں نے کہا کہ فرینڈز آف پاکستان سے ملنے والی امداد کے لیے ورلڈ بینک کی زیر نگرانی خرچ کی جائےگئی کیونکہ امداد دینے والے ممالک اس بات کو یقنی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کی امداد صیح جگہ یا پہلے سے مخصوص گیےگئے منصوبوں پر ہی خرچ کی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر یقینی کی سی صورتحال سےگزر رہا ہے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے حکومتی رٹ خطرے میں رہتی ہے جس کی وجہ سے امداد دینے والے ممالک کو اندیشہ ہوتا ہے کہ ان کی امداد کا غلط استعمال نہ ہو۔
ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے بتایا کہ ورلڈ بینک کا ٹرسٹ فنڈ بنانے کا مقصد یہ ہی ہے کہ پاکستان کو کوئی کلین چٹ دینے کو تیار نہیں ہے اور ٹرسٹ فنڈ ذریعے امداد کے صیح جگہ استعمال اور اس میں کرپشن کے امکانات کو کم کرنا ہے۔
سابق وزیر خزانہ اور معاشی ماہر سرتاج عزیز نے بتایا کہ فرینڈز آف پاکستان سے ملنے والی امداد سے ملک کو درپیش مالی مسائل قدرے کم ہوں گے لیکن مکمل طور پر حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور ملنے والے امداد سے اس پر قابو پانے میں کافی مدد ملے گی باقی دوسرے شعبے جیسے صحت ، تعیلم اور دفاع میں امداد کے ساتھ ڈھانچے میں تبدیل ضرورت ہے ۔
ورلڈ بینک کے ٹرسٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ امداد دینے والے ممالک کے مشورے سے پیسے پاکستان میں خرچ کرے گا۔
© MMX