Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 14 april, 2009, 07:04 GMT 12:04 PST

آبادکاروں پر حملے جاری

بلوچستان میں دوسرے صوبوں سے آ کر بسنے والوں لوگوں کی بڑی تعداد واپس چلی گئی ہے

بلوچستان میں تین راہنماؤں کے قتل کے بعد دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور منگل کو کوئٹہ مستونگ پنجگور اور رکھنی میں ’ٹارگٹ کلنگ‘ اور دستی بم کے حملے میں چار افراد ہلاک اور دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے کلی ابراہیم زئی میں ایک مکان پر دستی بم پھینکا جس سے سات افراد زخمی ہوئے گئے۔ پولیس کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

کوئٹہ میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے مستونگ شہر میں تعینات لائن سپرینٹنڈنٹ جاوید گجر اپنے بیٹے کے ساتھ گاڑی میں جا رہے تھے کہ اس دوران نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی ہے جس سے جاوید گجر ہلاک اور ان کے بیٹے زخمی ہوئے گئے۔

مستونگ سے مقامی صحافی عطااللہ نے بتایا ہے کہ پولیس نے آبادکاروں کے مکانات کے باہر اہلکار تعینات کیے ہیں لیکن ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پھر بھی سامنے آ رہے ہیں۔

پنجگور کے پولیس افسر نے عبدالحئی عامر نے بتایا ہے کہ پنجگور میں ملتان سے تعلق رکھنے والے فیاض احمد گاڑیوں کی مرمت کرتے ہیں اور ہڑتال کے دوران کسی نے انھیں اپنی گاڑی کی مرمت کے لیے بلایا۔

فیاض احمد جب اپنے گیراج کے پاس پہنچے تو اس دوران پندرہ سے بیس افراد وہاں پہنچے اور فیاض پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی ہے جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق فیاض احمد کو ہاتھ اور پیٹھ پر جلنے کے زخم آئے ہیں۔

پنجگور میں پولیس نے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو حفاظت فراہم کر رکھی ہے تاکہ حالیہ فسادات میں وہ محفوظ رہیں۔ پنجگور تربت گوادر اور دیگر علاقوں میں دیگر صوبوں خاص طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں آباد تھے لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ تین راہنماؤں کے قتل کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنے اپنے صوبوں کو چلے گئے ہیں۔ اس وقت پنجگور میں صرف ساٹھ کے لگ بھگ افراد رہ گئے ہیں جن میں خواتین شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ان افراد کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

ادھر بارکھان میں رکھنی کے قریب نامعلوم افراد نے کوئلے سے لدے ٹرک پر حملہ کیا ہے جس سے ڈرائیور محمد اشرف اور کنڈیکٹر محمد رمضان ہلاک ہوئے گئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔

مقامی صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے دو ٹرکوں پر حملہ کیا ہے لیکن فائرنگ سے ایک ہی ٹرک کے دو افراد ہلاک ہوئے ہیں اور دوسرے ٹرک کا عملہ محفوظ رہا ہے۔ اس سے پہلے آج صبح کوئٹہ کے سریاب روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک راہگیر زخمی ہوا ہے۔

بلوچستان میں تین بلوچ راہنماؤں کے قتل کے بعد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اب تک سولہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اورنگزیب کاسی نے ان حملوں کو بلوچستان میں بھائی چارے کی فضا خراب کرنے کی ایک سازش قرار دیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔