
تحریکِ نفاذ شریعت محمدی نے اپنا امن کیمپ ختم کر دیا ہے
کالعدم تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کا کہنا ہے کہ جب صدرِ مملکت نظام عدل ریگولیشن کے ترمیمی مسودے پر دستخط نہیں کر تے تب تک وہ نہ مینگورہ واپس جائیں گے اور نہ ہی کسی حکومتی اہلکار یا وزیر کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔
انہوں نے یہ بات بٹ خیلہ کے علاقے امان درہ میں واقع اپنے مرکز سے اپنے بیٹے کے توسط سے بی بی سی کو فون کر کے کہی ہے۔مولانا صوفی محمد خود فون پر بات کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ مولانا صوفی محمد نے چند دن قبل یہ کہہ کر مینگورہ میں اپنا امن کیمپ ختم کر دیا تھا کہ نظام عدل ریگولیشن پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے دستخط نہیں کیے جو ان سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہے جبکہ اس کے جواب میں وزیراعظم کے مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا تھا کہ صدر شرعی نظام عدل کے مسودے پر دستخط اُس وقت کریں گے جب سوات میں امن کے عمل کو یقینی بنایا جائےگا۔
انہوں نے کہا تھا کہ طالبان امن معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہے ہیں۔
صدر کی جانب سے نظام عدل ریگولیشن پر دستخط کرنے میں تاخیر پر عوامی نینشل پارٹی اور پیپلز پارٹی پر مشتمل مخلوط صوبائی حکومت کے مؤقف میں بھی اب قدرے تلخی محسوس کی جا رہی ہے۔ عوامی نینشل پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کا مسودے پر دستخط میں تاخیر اس لیے سمجھ سے بالاتر ہے کہ سبھی لوگ صدر سےجلد سے جلد دستخط کرنے پر متفق ہیں۔
نظام عدل ریگولیشن کے مسودے پرصدر کے دستخط میں تاخیر ہونے کے حوالے سے فریقین کے مؤقف سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ صوبہ سرحد کی حکومت، سوات کے طالبان اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی ایک طرف جبکہ مرکز میں حکمران پیپلز پارٹی دوسری طرف کھڑی ہے۔
© MMIX